فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا،براہ راست نام سنے تودھچکالگا، بلاول بھٹو

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا...
شائع 06 نومبر 2020 02:11pm

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کا نام لینا نواز شریف کا ذاتی فیصلہ تھا،تقریر میں براہ راست نام سنے تو دھچکا لگا،اب انتظار ہےکہ نوازشریف کب ثبوت پیش کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے برطانوی نشریاتی ادارے(بی بی سی ) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کےایجنڈےمیں فوجی افسران کا نام نہیں لیاگیاتھا،اےپی سی میں اس معاملےپربحث ضرورہوئی تھی،اےپی سی میں بحث ہوئی تھی کہ الزام ایک ادارےپرلگاناچاہیئےیاپوری اسٹیبلشمنٹ پرلگانا چاہیئے،جس پر اتفاق ہواتھاکہ کسی ایک ادارےکانہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کہاجائےگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسے میں فوجی قیادت کانام لینانوازشریف کا ذاتی فیصلہ تھا اب انتظارہےکہ نوازشریف کب ثبوت پیش کریں گے لیکن نوازشریف کی تقریرمیں براہ راست نام سنےتودھچکا لگاکیونکہ عام طورپرہم جلسوں میں اس طرح کی بات نہیں کرتے،نوازشریف کی اپنی جماعت اور مؤقف ہے،دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی بات کو کنٹرول نہیں کرتیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پی ڈی ایم کا ایجنڈاآل پارٹیزکانفرنس کی قراردادمیں واضح ہے،پی ڈی ایم کا ہرگزیہ مطالبہ نہیں کہ فوجی قیادت عہدےسےدستبردارہوجائے،امیدہےمیاں صاحب نےبغیرثبوت کےکسی کا نام نہیں لیا ہوگا،اس قسم کے الزامات ثبوتوں کی بنیاد پر ہی آگےآنے چاہئیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ فوجی قیادت پرالزام لگانانوازشریف اورن لیگ کااپنافیصلہ ہے،نواز شریف3باروزیراعظم رہ چکےہیں،بغیرثبوت کےالزام نہیں لگائیں گے،یہ ایساالزام نہیں ہے کہ آپ ایک جلسے میں کسی پر بھی لگادیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کوروناوباءکےباعث نوازشریف سےملاقات کاموقع نہیں ملا،نوازشریف سے ملاقات بہت ضروری ہے،نوازشریف سےبراہ راست اس معاملے پر بات کروں گامگرمجھےانتظارہے کہ میاں صاحب ثبوت سامنے لائیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ پولنگ اسٹیشنزکےاندراورباہرفوج کی تعیناتی قابل مذمت ہے،چیف جسٹس کا ڈیم فنڈکی مہم پرنکلنابھی قابل مذمت ہے،عمران خان کی حکومت لانےکی ذمہ داری کسی شخص پرنہیں ڈالی جاسکتی ۔

بلاول بھٹوکا کہنا تھا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی نےکُھل کرمؤقف کااظہارنہیں کیا،پیپلز پارٹی نےبراہ راست کسی شخصیت کا نام لینے سے گریزکیا،3نسلوں سےجدوجہدکررہےہیں،جانتاہوں کہ کیسے لڑاجاتاہے،ریاستی اداروں کےاہلکاراپنے ادارےکوغیرمتنازع رکھناچاہتےہیں،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر ادارہ اپنا کام کرے،یہ تسلیم کرناہوگاکہ ترقی پسندجمہوریت ہی واحدراستہ ہے،کمزور جمہوریت آمریت سے کئی درجے بہتر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم کے پاس ابھی استعفوں کا آپشن بھی موجود ہے،حکومت مخالف تحریک میں دھرنےبھی دیئے جاسکتےہیں،حکومت میں رہنے کا جواز عوام کا اعتماد ہوتا ہے،موجودہ حکومت عوام کا اعتماد کھوچکی ہے ،مہنگائی اور گرتی معیشت کی ذمہ دارموجودہ حکومت ہے،موجودہ حکومت نااہل ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدرکی گرفتاری پرآرمی چیف سےدوبارہ رابطہ نہیں ہوا،امید ہےکہ ذمہ دارافراد کیخلاف کارروائی ہوگی،گلگت بلتستان کے انتخابات شفاف ہونے چاہئیں،گلگت بلستان میں فوج پولنگ اسٹیشنزکےاندر یا باہرنہیں ہونی چاہیئے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نےگلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانےکےاعلان کیا،وزیراعظم کا گلگت میں یہ اعلان انتخابی دھاندلی ہے،پیپلزپارٹی پہلے ہی گلگت بلتستان کوعبوری درجہ دےچکی ہے۔