"کشمیری جس ردعمل کے منتظر تھے وہ پاکستانی حکومت سے نہیں ملا"
وزیراعظم آذار کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا ہے کہ 5 اگست کے بعد کشمیری جس ردعمل کے منتظر تھے وہ پاکستانی حکومت سے نہیں ملا۔ پاکستان کے اندر ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو کشمیر کا مقدمہ سہی معنوں میں لڑے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کشمیر کے شہداء کے ساتھ مخلص ہوتی تو سکوت جموں رونما نہ ہوتا۔ میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کشمیر کاز صرف تصویروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
سیالکوٹ کے علاقہ تلک پور میں منعقدہ یوم شہداء جموں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ ڈھائی لاکھ مسلمانوں کا خون بہایا گیا، کشمیر کو میری ماؤں بہنوں کے خون سے رنگین کیا گیا۔
انہوں نے کہا 5 اگست کے بعد کشمیری جس رد عمل کے منتظر تھے وہ پاکستانی حکومت سے نہیں ملا، مجھ پر غداری کے الزامات لگائے میں سمجھتا ہوں پاکستان سے میرا رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ پاکستان کے اندر ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو کشمیر کا مقدمہ سہی معنوں میں لڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 72 سالہ تاریخ میں کشمیر کا مقدمہ جو راجہ فاروق حیدر نے لڑا ہے اسکی مثال نہیں ملتی، موجودہ حکومت کشمیر کے شہداء کے ساتھ مخلص ہوتی تو سکوت جموں رونما نہ ہوتا، میں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کشمیر کاز صرف تصویروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، ڈیڑھ سال سے لاک ڈاؤن کی مشکلات برداشت کرنے والے کشمیریوں نے تحریک کو زندہ کر رکھا ہے۔
راجہ فاروق حیدر نے مزید کہا کہ خواجہ آصف نے کہا ہم نعرہ تو لگاتے ہیں کشمیر ہماری شہہ رگ ہے لیکن ہم نے اپنی شہہ رگ کو کسی بین القوامی سودے کا حصہ بنا دیا ہے۔ خواجہ آصف نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا عمران خان نے گزشتہ دو سالوں میں کیا گیا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا، عوام کے ساتھ اربوں روپے کی ڈکیتی کی گئی ہے مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے آج چینی مافیا کا سب سے بڑا چور برطانیہ سے واپس آگیا ہے۔
خواجہ آصف مزید نے کہا کہ اس تبدیلی کیلئے کسان نے ووٹ دیا تھا کہ وہ اپنے مسائل کیلئے باہر نکلے تو انکو موت دی گئی۔ انہوں نے کہا میرے قائد کا بیانیہ پاکستانی قوم کا بیانیہ ہے، نوازشریف نے تحریک آزادی کشمیر کے برہان وانی کی شہادت کو ہر فورم پر اٹھایا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔