"جیل جائیں گے مگر شادی ہالز بند نہیں کریں گے"
کراچی: 20 نومبر سے شادی ہالز بند کرنے کے حکومتی فیصلے پر بینکوئٹ اینڈ ہالز ایسوسی ایشن کا ردعمل آگیا۔ وزیراعظم سے فیصلہ واپس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جیل جائیں گے مگر شادی ہالز بند نہیں کریں گے۔
حکومتی فیصلے پر کراچی بینکوئٹ اینڈ ہالز ایسوسی ایشن کے صدر شارق میمن نے کہا ہے کہ 7 ماہ کی بندش کے بعد ایس او پیز کے تحت کام شروع کیا، تقریبات میں مہمانوں کی تعداد نصف کردی، دورانیہ دو گھنٹے تک محدود کیا۔ مہمانوں کو ماسک فراہم کئے سینٹائزر دیئے لیکن اسکے باوجود ہمارا کام بند کرنے کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کی پاسداری نہیں کریں گے، احتجاج کریں گے، سڑکیں بند کریں گے اور اگر جیل جانا پڑا تو جائیں گے۔
ایسوسی ایشن کے نائب صدر راشد خان کے مطابق پہلے لاک ڈاؤن میں اسٹیٹ بینک کی روزگار اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ ممبران نے اپنے وسائل سے اپنے ملازمین کو ادائیگیاں کیں ہیں۔ وہ ادھار ادا کرنے ہیں اس لئے ایک اور لاک ڈاؤن کو برداشت نہیں کرسکتے نہ ہی ہالز بند کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم اور وزیراعلی اپنے فیصلے کو واپس لیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔