بات یہاں تک نہیں رکے گی، ضرورت پڑی تو وزیر اعظم کو بھی بلائیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے پر چیف...
اپ ڈیٹ 10 نومبر 2020 04:05pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے پر چیف سیکرٹری سندھ اور سیکرٹریز ریلوے کوشوکاز نوٹس جاری کردیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ بات اب یہاں تک نہیں رکے گی، ضرورت پڑی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کراچی سرکلر ریلوے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے،سیکرٹری ریلویز اور چیف سیکرٹری سندھ بتائیں کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ کیوں فعال نہیں ہوا ، ٹریک پر سے تجاوزات کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟؟۔

عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اورسیکرٹری ریلویز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں افسران کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم کے باوجود تجاوزات ختم کرکے سرکولر ریلوے پر کام شروع نہیں کیا گیا،اب بات صرف یہاں تک نہیں رکے گی،ہم سب کو بلائیں گے،ضرورت پڑی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلالیں گے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔