Aaj TV News

BR100 4,231 Decreased By ▼ -22 (-0.51%)
BR30 21,389 Decreased By ▼ -14 (-0.07%)
KSE100 40,807 Decreased By ▼ -224 (-0.55%)
KSE30 17,160 Decreased By ▼ -135 (-0.78%)

کورونا کی آڑ میں پیسا کمانے کے کھیل کی تیاری جاری ہے۔ اب ایک سے زیادہ کمپنیاں کورونا ویکسین لانچ کرنے کی تیاری میں ہیں اور ایک کے بعد ایک فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی ویکسین اچھی اور بہتر ہونے کے دعوے کررہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے فائزر کمپنی نے اپنی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ کیا مگر عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چیف نے ان کی ویکسین کو کمزور قرار دے دیا۔

ڈبلیو ایچ او کے چیف ٹیڈروس ایڈہانیم نے کہا ہے کہ اس سال کے آخر تک امید کی جا سکتی ہے کہ کوڈ 19وائرس کی ویکسین مارکیٹ میں آ جائے گی، جس کی مدد سے ہم اس وائرس سے لڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فائزر کمپنی کی طرف سے بنائی گئی ویکسین توقعات سے کہیں زیادہ کمزور ہے کیونکہ اسے سنبھالنے کے لیے خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فائزر کی طرف سے تیار کی گئی ویکسین جدید نوول ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں سینتھیٹک ایم آراین اے کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ امیون سسٹم کو طاقت دے کر ایکٹو کیاجا سکے۔ اس قسم کی ویکسین کے ساتھ جو مشکل پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے رکھنے کے لیے ایک خاص قسم کا درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے جو کہ منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

ڈبلیو ایچ او چیف کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ویکسین مارکیٹ میں آجاتی ہے تو ہم کوشش کریں گے کہ یہ ہر جگہ دستیاب ہو سکے۔

جبکہ اس سے قبل فائزر کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان کی ویکسین بہترین ہے اور اس نے 90 فیصد کامیاب رزلٹ دیا ہے۔ کیونکہ اس کا تجربہ بڑے وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے۔

چیف ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ فائزر کی ویکسین درجہ حرارت کی وجہ سے ناکام ہے کیونکہ افریقا اور اور ایشیائی ممالک میں اس کا اثر نہیں ہو سکے گا، کیونکہ وہاں درجہ حرارت بہت زیادہ ہے اور وہاں پہنچنے تک وقت بھی زیادہ لگے گا۔