کراچی کی ملیر،سینٹرل جیل میں قید انڈر ٹرائل قیدیوں کی مکمل فہرست طلب
سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی ملیر اورسینٹرل جیل میں قید انڈرٹرائل قیدیوں کی مکمل فہرست طلب کرلی اور آئی جی سندھ کو قیدیوں کے جرائم کی نوعیت اور سزا کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں سندھ کی جیلوں میں سزا یافتہ اورگنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے سینٹرل جیل کراچی اورملیر جیل میں قید انڈرٹرائل قیدیوں کی مکمل فہرست طلب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو قیدیوں کے جرائم کی نوعیت اورسزا کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ۔
عدالت نے حکم دیا انڈر ٹرائل قیدی کب اور کتنے عرصے سے جیلوں میں قید ہیں،تفصیلات پیش کی جائے جبکہ عدالت نے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے انڈرٹرائل قیدیوں کو کتنی معافی مل سکتی ہے، فی الحال 2جیلوں کی تفصیلات طلب کررہے ہیں دیگر جیلوں کا ریکارڈ بعد میں مانگا جائے گا۔
دوران سماعت درخواست گزارکے وکیل کا مؤقف تھا کہ جیلوں میں 78 فیصد قیدی انڈر ٹرائل ہیں، زیادہ ترملزمان غریب ہیں وہ وکیل بھی نہیں کرسکتے،2010سے پہلے کے انڈر ٹرائل قیدی اپنی آدھی سزا ویسے بھی کاٹ چکے ہیں۔
درخواست گزارنے عدالت سے استدعا کی کہ جوملزمان اپنے جرم کی سزا کی اٹھاون فیصد جیل میں گزار چکے ہیں،انہیں ضمانت پررہا کیا جائے ۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔