بینک ڈیفالٹر کیخلاف نیب کارروائیوں سے متعلق تمام مقدمات یکجا کرنے کی ہدایت
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینک ڈیفالٹر کیخلاف نیب کارروائیوں سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی ہدایت کردی۔
سپریم کورٹ میں بینک ڈیفالٹرز کیخلاف نیب کارروائی کے معاملے پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کی۔
نیب پراسیکیوٹرنے کہا کہ بینک اورنادہندہ کے درمیان رقم کی سیٹلمنٹ کیلئے نیب کی اجازت کی ضرورت نہیں، جس پر وکیل ملزمان نے کہا کہ نیب کے باعث اسٹیٹ بینک اورنجی بینک رقم سیٹلمنٹ سے ہچکچا رہے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ بینک کوتواپنے پیسے چاہیں ، اگرکوئی نادہندہ نیب کے ڈرسے رقم واپس کرنا چاہتاہے تونیب رکاوٹ نہ ڈالے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ یہ نجی مل مالکان ہیں کوئی عوامی عہدیداران نہیں، کاروباری حضرات کونقصانات ہوجاتے ہیں، نیب کا کام توصرف فراڈ کرنے والوں کیخلاف کاروائی کرنا ہے۔
جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ اس کیس میں توگھرکی عورتیں بھی شامل ہیں، جان بوجھ کربینک ڈیفالٹرز بننے سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کرچکی ہے۔
سپریم کورٹ نے بینک ڈیفالٹر کیخلاف نیب کاروائیوں سے متعلق تمام مقدمات کویکجا کرنے کی ہدایت اور نیب سے زیرالتواء مقدمات کی فہرست طلب کرلی ۔ عدالت عظمیٰ نے بینک اور ڈیفالٹرز کو15روزمیں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت کرتےہوئے ملزمان کی عبوری ضمات میں آئندہ سماعت تک توسیع کردی۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔