Aaj TV News

BR100 4,874 Increased By ▲ 12 (0.25%)
BR30 25,700 Increased By ▲ 11 (0.04%)
KSE100 45,306 Increased By ▲ 75 (0.17%)
KSE30 18,538 Increased By ▲ 28 (0.15%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 756,285 6127
DEATHS 16,243 149
Sindh 272,197 Cases
Punjab 267,572 Cases
Balochistan 20,822 Cases
Islamabad 69,556 Cases
KP 105,438 Cases

** تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک لاہور میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔**

خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ لاہور میں مینار پاکستان پر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ ان کے استاد علامہ ستار سعیدی نے پڑھائی، عقیدت مندوں کی بڑی تعداد ان کی نمازجنازہ میں شریک ہونے پہنچی۔

مرحوم خادم حسین رضوی کی تدفین مسجد رحمت اللعالمین بیٹری اسٹاپ ملتان روڈ میں ہوگی۔

جنازہ کی جگہ پر صبح سے ہی لوگوں کی آمد شروع ہوگئی، جب کہ جنازے کے روٹ پر بھی لوگوں کی بڑی تعداد صبح سے موجود ہے۔

سیکیورٹی کے پیش نظر آزادی پل کے اطراف سڑک کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔ ینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں انتظامات مکمل کر لئے گئے، غم سے نڈھال کارکنوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

لاہور میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ایک ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار تعینات ہیں، 03 ایس پیز، 14 ڈی ایس پیز، 31 ایس ایچ اوز، 116 اَپر سب آرڈینیٹس فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ڈولفن سکواڈ، پولیس ریسپانس یونٹ، ایلیٹ فورس، اے آر ایف، ایس پی یو اور سادہ لباس میں جوان بھی ڈیوٹی کر رہے ہیں، شہر بھر میں مختلف مقامات پر گذشتہ رات بھرپور سرچ اینڈ سویپ آپریشنز بھی کیا گیا، ڈولفن سکواڈ اور پیرو ٹیمیں جنازے کے روٹ، گریٹر اقبال پارک اور گرد و نواح میں موثر پٹرولنگ کریں گی، بلند عمارتوں پر تعینات سنائپرز اطراف کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں گے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اشفاق خان کا کہنا ہے کہ نمازجنازہ میں شرکت کے لئے آنے والے شہریوں کو مکمل چیکنگ کے بعد ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے، شہری دوران سفر ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری ہدایات کے مطابق روٹ کی پابندی کریں، کورونا خدشات کے پیش نظر نمازِ جنازہ میں شریک شہری فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

واضح رہے کہ خادم حسین رضوی کا انتقال جمعرات 19 نومبر کی رات کو ہوا۔

علامہ خادم حسین رضوی کے قریبی ساتھی صاحبزادہ بشیر احمد یوسفی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے واپسی پر ان کی طبعیت خرابی ہوئی تھی، سانس لینے میں دشواری اور بخار بھی تھا، شیخ زید اسپتال میں چیک اپ کروایا گیا مگر طبعیت نہ سنبھل سکی تھی۔

ٹی ایل پی کے سربراہ ایک ٹریفک حادثے میں معذور ہوگئے تھے، جس کے بعد سے وہ وہیل چیئر استعمال کرتے تھے۔

وہ 22 جون 1966ء کو ضلع اٹک کے علاقے نکہ توت میں پیدا ہوئے۔سال 1993ء میں وہ محکمہ اوقاف کے خطیب بھی رہے۔ انہوں نے سوگواران میں 2 بیٹے اور 4 بیٹیاں چھوڑے ہیں۔

علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال پر وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔