Aaj TV News

BR100 4,855 Increased By ▲ 19 (0.39%)
BR30 24,780 Increased By ▲ 335 (1.37%)
KSE100 45,903 Increased By ▲ 177 (0.39%)
KSE30 19,153 Increased By ▲ 133 (0.7%)

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے ایک اعلان کے مطابق اس نے گذشتہ ہفتے کو مشرق وسطی میں"B-52" بمبار طیارے تعینات کر دیے ہیں۔

کمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دشمن پر روک لگانا اور علاقے میں امریکا کے شراکت داروں اور حلیفوں کو مطمئن کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس مشن سے طیاروں کے عملے کو خطے کی فضائی حدود اور کنٹرولنگ فنکشنز کے بارے میں جان کاری حاصل ہو گی۔

یہ اقدام ان میڈیا رپورٹوں کے گردش میں آنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی سے متعلق اپنے سینئر معاونین کے ساتھ اجلاس میں ایران پر حملے کے آپشنز طلب کیے تھے۔ امریکی چینل "فوكس نيوز" نے اسے موجودہ انتظامیہ کی جانب سے تہران کے لیے دھمکی کا پیغام قرار دیا تھا۔

امریکی فوج نے جو طیارہ تعینات کیا ہے وہ عموماً بڑے فوجی حملوں کے آغاز پر بمباری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دشمن کی بڑی تنصیبات اور انفرا اسٹرکچر کو تباہ کیا جا سکے۔ یہ طیارہ "B-52 Stratofortress" کے نام سے جانا جاتا ہے اور اپنے اندر 31 ٹن اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید یہ کہ طیارہ 1000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔ طیارے کے 1.41 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہی اس میں ایندھن بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس طیارے کو بوئنگ کمپنی نے 1950ء کی دہائی میں تیار کرنا شروع کیا تھا۔ اس وقت طیارے کی قیمت 11 کروڑ ڈالر ہے۔

البتہ امریکی فوج نے اس جگہ کا انکشاف نہیں کیا ہے جہاں اس B-52 طیارے کو رکھا گیا ہے۔ طیارے نے ہفتے کی صبح ریاست شمالی ڈیکوٹا میں Minot کے فضائی اڈے سے اڑان بھری تھی۔

طیارے کا عملہ غالباً 5 افراد پر مشتمل ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق طیارہ بحر ہند میں جزیرہ Diego Garcia میں اسی نام سے واقع اڈے پر اترا۔ یہ اڈا ایران سے 5 ہزار کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

واضح رہے کہ B-52 طیارہ 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ سکتا ہے۔ اس طیارے نے کویت کو عراق سے آزاد کرانے کے لیے ہونے والے فوجی آپریشن Desert Storm میں استعمال ہونے والے اسلحے کا 40 فیصد حصہ اکیلے ہی منتقل کیا تھا۔ یہ آپریشن 1991ء میں اختتام پذیر ہوا۔

اسی طرح US.Air Force کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس نوعیت کے دو طیارے دو گھنٹے میں 3.64 لاکھ مربع کلو میٹر کی فضائی نگرانی کر سکتے ہیں۔ یہ رقبہ شام، لبنان، اردن اور فلسطین کے مجموعی رقبے سے زیادہ ہے۔