Aaj TV News

BR100 4,823 Decreased By ▼ -29 (-0.6%)
BR30 25,613 Decreased By ▼ -58 (-0.23%)
KSE100 44,895 Decreased By ▼ -291 (-0.64%)
KSE30 18,400 Decreased By ▼ -85 (-0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

ٹوئٹر سے تنازعے کے بعد بھارت اپنا انٹرنیٹ بنانے کی کوششیں کررہا ہے۔

بھارت کی حکومت کی جانب سے مخصوص ٹوئٹر اکاؤنٹ ہٹانے سے امریکی کمپنی کے انکار کی وجہ سے تنازع طول پکڑ گیا ہے، ٹوئٹر سے مماثل بھارتی سوشل نیٹ ورک کے ایک سینئر ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ ان کی ایپلی کیشن پر اچانک توجہ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

ایپلی کیشن "کو" کے شریک بانی ماینک بداوتکا نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آپ کو اچانک ورلڈ کپ کے فائنل میں شامل کردیا گیا ہو اور سب آپ ہی کی ٹیم کو دیکھ رہے ہیں۔

"کو" جس کی حمایت بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کی ہے اور ان کی حکومت کے عہدیدار اور وزارتیں جوش و جذبے کے ساتھ استعمال کررہی ہیں، ایک سال سے بھی کم عرصے قبل قائم کی گئی اس ایپ کے تجزیاتی ادارے سینسر ٹاور کے مطابق رواں سال اب تک 33 لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے۔

اسی عرصے میں ٹوئٹر کے 42 لاکھ بھارتی ڈاؤن لوڈ میں کمی آئی ہے۔ تاہم ٹوئٹر کے لوگو سے مشابہہ لوگو والے بھارتی سوشل نیٹ ورک کو ماہ فروری میں ٹوئٹر کے مقابلے میں زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا، جب بھارتی زرعی اصلاحات کے خلاف کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے ہیش ٹیگ اکاؤنٹ کو بلاک نہ کرنے پر بھارتی حکومت نے امریکی کمپنی کو بلایا تھا۔