Aaj.tv Logo

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ستر کروڑ کی بات کرنے والے ہی آج ہارس ٹریڈنگ کی بات کرکے سیاست کو بدنام کررہے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر سخت بات نہیں کی یہ سندھ کے عوامی نمائندوں کی آواز ہے ۔

حیدرآباد میں لائیو اسٹاک ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے ممبران کے ووٹ لیکر جو سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے یہ ان کی ترجمانی ہے یہ میری نہیں تمام سندھ کے ممبران کی آواز ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے کی مذمت کرتا ہوں معزز ایوان کے ممبران پر الزام لگایا گیا ہے سیکرٹ بیلٹ آئینی حق ہے جیسے ایک بھائی ایک دوسرا دوسری جماعت کو ووٹ کرتا ہے کیا سب بکے ہوئے ہیں قادر بلوچ کو جس طرح لایا گیا، وہ سب نے دیکھا ایم پی ایز بدنام کرنے والے بہت پر کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں مظفر علی شاہ نے جو کل کیا وہ حیران کن ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مظفر حسین شاہ اسپیکر اور وزیراعلی رہ چکے ہیں انہوں نے جو کیا وہ شاید کوئی نالائق بھی نہ کرے مظفر حسین شاہ نے اسکرپٹ پر من و عن عملدرآمد کیا وہ باصلاحیت انسان ہیں پر اسکرپٹ ان کو پڑھنا تھا اسکرپٹ انہوں نے لکھ کر دیا جنہوں نے کیمرے لگائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فنڈز کی کمی اور وفاق کی جانب سے پیسے نہ ملنے کے باعث بجٹ میں مشکلات کا سامنا ہوگا انکروچمنٹ آپریشن میں بے گھر ہونے والے افراد میں ان کو ہٹایا جا رہا ہے جو پانی دینے کے حصول میں سامنے آر ہے ہیں انکروچمنٹ آپریشن کا مقصد بے گھر کرنا نہیں جب چیئرمین سینیٹ کا الیکشن دھاندلی کے نظر ہوگیا پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلیے ممبران کا مورال ڈاون ہوگیا ہمارے ووٹرز سے جیتا ہوا الیکشن چھینا جس ہاؤس میں کیمرا فٹ ہوئے وہ کس کی تحویل میں تھا۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی پوری امید ہے اگر کوئی عدالت پر اثر انداز ہوتا ہے تو یہ توہین عدالت ہے مجھے عدالت پر بھروسہ ہے اور امید کرتا ہوں کہ وہ پرانے فیصلوں پر کھڑی رہیں گی۔