Aaj.tv Logo

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کردی۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر دوبارہ پولنگ کا حکم دیا، پیش کردہ نقشے کے مطابق 20 پریذائڈنگ افسران صبح تک غائب تھےجبکہ تمام کشیدگی ڈسکہ کے شہری علاقہ میں ہوئی،الیکشن کمیشن کا تفصیلی فیصلہ اور جواب اہمیت کے حامل ہیں۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ کچھ پریزائیڈنگ افسران نے اپنے فون بند کردیے اور اکٹھے غائب ہوگئے، تمام غائب ہونے والے پریزائیڈنگ افسر صبح یکایک ایک ساتھ نمودار ہوئے، کیا تمام پریزائیڈنگ افسران غائب ہوکر ناشتہ کرنے گئے تھے؟

پی ٹی آئی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہاکہ الیکشن کمیشن نے ایک ڈی ایس پی کا بہانہ کرکے پورا الیکشن متنازع قرار دے دیا، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 9 کےتحت الیکشن کمیشن نے انکوائری کرانا تھی۔

جسٹس عمر نے کہا کہ الیکشن کو کالعدم کرنا انتظامی فیصلہ تھا اور انتظامی فیصلہ فوری طور پر کرنا پڑتا ہے، اس پر پی ٹی آئی وکیل نے مؤقف اپنایا کہ انتظامی فیصلے کیلئے انکوائری کا ہونا ضروری تھا۔

اس موقع پر ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ قومی اسمبلی کے ایک حلقے پرایک کروڑ 90 لاکھ کا خرچہ آتا ہے، جسٹس عمر نے کہا کہ دوبارہ چیک کریں یہ اخراجات کم لگتے ہیں، ایک کروڑ 90 لاکھ تو صرف ایک امیدوار کا خرچ ہوگا، یہ جاننا اہم ہے کہ الیکشن شفاف، منصفانہ اورقانون کے مطابق ہوئے یا نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرنے کا فائدہ نہیں، اگلی سماعت پر اس نکتے پر غور کریں گے کہ کیا کرنا ہے، آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن ڈسکہ الیکشن میں قانون پرعمل نہیں ہوا، کیا ہوائی فائرنگ اتنا شدید مسئلہ ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوں؟ الیکشن کمیشن نے پولیس کے عدم تعاون کا معاملہ اٹھایا، پولیس کے خلاف تو کارروائی بھی ہوسکتی ہے لیکن پولیس کا عدم تعاون دوبارہ پولنگ کا جواز نہیں ہوسکتا۔

سپریم کورٹ نے این اے 75ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرتےہوئے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔