Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جارہی ہے اور اگر عوام نے کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو سخت پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جارہی ہے، آگے اس وبا کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہوگا، اسی وجہ سے ہم نے 2 ہفتے پہلے پابندیوں میں اضافہ کیا تھا، شاید لوگوں کو تیسری لہر کی ہولناکی کا اندازہ نہیں۔

اسد عمر نے بتایا کہ لوگوں کو اندازہ نہیں کورونا کی تیسری لہر کتنی خطرناک ہے، کورونا سے بچاؤ کے لیے جو فیصلے کیے گئے ہیں ان پر عوام کی جانب سے اس طرح عمل نہیں ہورہا جیسے ہونا چاہیے تھا، پنجاب اور کے پی میں کورونا وبا کی لہرمیں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں کیسز میں اضافے کی وجہ سے برطانوی کورونا وائرس کی قسم ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے، کورونا سے بچاؤ کےلیےشہری ایس او پیز پر عمل یقینی بنائیں، احتیاط نہ کی گئی تو کورونا کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا، ہمارے اسپتالوں پر کورونا کے باعث دباوَ بڑھ گیا ہے، گزشتہ 5 روز میں کورونا تشویشناک مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔

سربراہ این سی او سی نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کی بلند ترین سطح میں تشویش ناک مریضوں کی تعداد 3300 اور دوسری لہر میں 2511 تھی جبکہ اس تیسری لہر میں ابھی سے تشویش ناک مریضوں کی تعداد 2842 ہوچکی ہے، سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ 12 دن میں تشویش ناک مریضوں کی تعداد میں ایک ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، اگر اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو پہلی لہر کی جون کی بلند ترین سطح سے آگے نکل جائیں گے، اس کے نتیجے میں ابھی سے اسپتالوں میں بستر نہ ملنے کی شکایات آنا شروع ہوگئی ہیں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ وقت ہے کہ ایک بار پھر اس وبا کا مل کر مقابلہ کرنا ہے اور اس وبا کو اس حد تک نہیں پھیلنے دینا کہ لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچانا پڑے، ہماری ہر ممکن کوشش تو یہی ہے لیکن اگر فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو ایسی صورتحال بھی ہوسکتی ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ سخت پابندیاں لگانی پڑیں، مرکزی، صوبائی اور علاقائی سطح پر سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، اپوزیشن رہنماؤں سے درخواست ہے عوام کےدفاع میں کردار اداکریں۔