Aaj TV News

BR100 4,678 Decreased By ▼ -9 (-0.18%)
BR30 18,623 Decreased By ▼ -17 (-0.09%)
KSE100 45,507 Decreased By ▼ -105 (-0.23%)
KSE30 17,926 Decreased By ▼ -16 (-0.09%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,333,521 5,034
DEATHS 29,029 10
Sindh 505,930 Cases
Punjab 454,372 Cases
Balochistan 33,729 Cases
Islamabad 111,855 Cases
KP 182,419 Cases

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں اسلام دشمنی میں ہوچکے ہیں، فرانس میں مسلمانوں پر اب مزید نئی پابندی عائد کر دی گئی ہیں، اسلام مخالف بل کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی حکومت کا ایک اور اسلام دشمن اقدام سامنے آگیا ہے، تعلیمی اداروں میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی گئی ہے، فرانسیسی سینیٹ نے اسلام علیحدگی بل میں ترمیم کرتے ہوئے یونیورسٹیوں میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

رواں سال 16 فروری کو سینیٹ سے مشاورت کے بعد فرانسیسی قومی اسمبلی نے اس بل کو منظور کیا تھا، فرانسیسی صدر کی جانب سے اسلام مخالف بل کے منظر عام پر آنے کے بعد پوری دنیا میں اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیونکہ اس بل کا بنیادی مقصد مسلمانوں سے ان کی مذہبی آزادی چھیننا ہے۔

یاد رہے مسلمان کے خلاف نئے قوانین کا مقصد فرانس کی بنیادی اقدار آزادی اور مساوات کے اصولوں کو تقویت دیتے ہوئے جبری شادی کو روکنا ہے جس کی مسلم تنظیموں نے مخالفت کی ہے، فرانس میں انتہا پسندی کی روک تھام کے نام پر مسلمانوں کے خلاف سخت پابندیوں اور کڑی نگرانی کے لیے قانون منظور کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے فرانسیسی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے ایسے مجوزہ قوانین کی مخالفت کی گئی تھی جب کہ دنیا کے 13 ممالک سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی 36 غیر سرکاری تنظیموں کے اتحاد نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق میں اس قانون سازی اور فرانس میں مسلمان مخالف اقدامات کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔