Aaj TV News

BR100 5,282 Increased By ▲ 24 (0.46%)
BR30 27,601 Increased By ▲ 46 (0.17%)
KSE100 48,305 Increased By ▲ 53 (0.11%)
KSE30 19,479 Decreased By ▼ -59 (-0.3%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 941,170 1,239
DEATHS 21,689 56
Sindh 327,604 Cases
Punjab 343,926 Cases
Balochistan 26,201 Cases
Islamabad 82,099 Cases
KP 135,877 Cases

پشاور:سینئر سیاستدان اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)کے صدر اسفندیار ولی خان کی والدہ بیگم نسیم ولی خان انتقال کرگئیں،اُن کی نماز جنازہ شام 6 بجے چارسدہ میں ادا کی جائے گی۔

بیگم نسیم ولی مرحوم باچا خان کی بہو،مرحوم عبدالولی خان کی اہلیہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان کی والدہ بیگم نسیم ولی خان85سال کی عمر میں چل بسیں۔

بیگم نسیم ولی خان 3 بار صوبائی جبکہ 1 بار قومی اسمبلی کی ممبر رہ چکی تھی، وہ پچھلے کئی عرصے سے علیل تھی جس کی وجہ سے سیاست سے بھی کنارہ کُشی اختیار کی ہوئی تھی، وہ آج طویل علالت کے بعد انتقال کرگئی،اُن کا نماز جنازہ شام 6 بجے چارسدہ کے علاقے ولی باغ میں ادا کیا جائے گا۔

بیگم نسیم ولی خان24جنوری 1936 کو خدائی خدمتگار تحریک کے اہم رکن اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیرحیدر خان ہوتی کے دادا امیرمحمد خان ہوتی کے ہاں مردان پارہوتی میں پیدا ہوئیں،وہ خان عبدالولی خان کی دوسری اہلیہ تھیں اور ان کی شادی 1954 میں ہوئی تھی۔

بیگم نسیم ولی خان نے 1975ء میں پاکستان کی سیاست میں قدم رکھاجب رہبرتحریک خان عبدالولی خان کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی بھی لگائی گئی۔

انہوں نے ایسےوقت میں پارٹی کا کنٹرول سنبھالا جب ذوالفقارعلی بھٹو کے بنائے ہوئے حیدرآباد ٹریبونل کیس نیشنل عوامی پارٹی کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت جیل میں تھی اور سیاست کی خالی گدی سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا،انہوں نے سیاسی گدی بھی سنبھالی جنہوں نے اس نام نہاد کیس کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ سیاسی قیادت کی خلا بھی پر کی۔

بیگم نسیم ولی خان کی کوششوں ہی کی وجہ سے حیدرآباد سازش کیس ختم کیا گیا اور کامیاب پیروی پر اس کیس میں نامزد تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا۔

حیدرآباد سازش کیس کے نازک موڑ پر سیاست میں قدم رکھنے والی بیگم نسیم ولی خان نے ان تمام مفروضوں کو غلط ثابت کیا کہ پشتون معاشرے میں صرف مرد ہی پاکستانی سیاست میں قیادت کرسکتے ہیں۔

انہوں نے اسی دوران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی جس کیلئے اس وقت کے قیدرہنماؤں خان عبدالولی خان اور سردار شیربازمزاری سے بھی مشاورت کی گئی،اسی تحریک کی وجہ سے نیشنل عوامی پارٹی کے اسیر رہنماؤں کو رہائی ملی اور ملک بھر میں کارکنان کو منظم کیا گیا، انہیں خیبرپختونخوا کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

1977 میں چارسدہ اور مردان کے قومی اسمبلی (این اے 4 اور این اے 8) کے حلقوں پر بیک وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا کیونکہ اس وقت این ڈی پی کی تحریک زوروں پر تھی اور مارشل لاء نافذ کیا گیا۔

1986ء میں اے این پی کی بنیاد رکھی گئی تو خان عبدالولی خان مرکزی صدر جبکہ افضل خان لالا صوبائی صدرمنتخب ہوئے،1994ء میں وہ پہلی بار عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کی صدر منتخب ہوئیں،1998ء میں ایک بار پھر صوبائی صدر منتخب کردی گئیں۔

پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار انہوں نے 1988ء میں چارسدہ پی ایف 13 سے حصہ لیا اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن منتخب ہوئی،1990ء میں بھی پی ایف 13 اور 1993ء میں پی ایف 15 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

1997ء میں پی ایف 15 چارسدہ سے خیبرپختونخوا اسمبلی (اس وقت کی سرحد اسمبلی)کی رکن منتخب ہوئیں،وہ چار مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی پارلیمانی لیڈر بھی رہی ہیں،بیگم نسیم ولی خان 1990ء اور 1997ء کے دوران صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہی۔