Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ بچے جو اپنی کلاس میں سب سے چھوٹے ہیں ان کےدیر پا منفی نتائج سے گزرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

کنگزکالج لندن کےانسٹیٹیوٹ آف سائیکیٹری،سائیکولوجی اور نیورو سائنس میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ کسی بچےکو کلاس میں سب سےکم عمرہونےکےسبب خود سے عمر میں بڑے ہم جماعتوں کی نسبت طویل المدت نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے سوئیڈش نیشنل رجسٹر سے تین لاکھ لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں انہیں معلوم ہوا کہ جو اپنے اسکول کی کلاس میں سب سے چھوٹے بچے تھے ان کے کم تعلیمی کامیابیوں کے، نشہ آور اشیاء کا استعمال اور مستقبل میں ڈپریشن کے امکانات بہت امکانات تھے۔

تحقیق کی سینئرمصنفہ جونا کنٹسی کا کہنا تھاکہ کلاس کے سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے بچے کے درمیان11مہینوں کا فرق ہوسکتاہے۔بچپن کے شروع کے دور میں یہ سمجھ بوجھ، رویے اور ادراکی صلاحیتوں کے اعتبار سے بہت اہم فرق ہے۔ ہم ڈیٹا سے اس چیز کو دیکھ سکتے ہیں کلاس میں سب سے چھوٹا ہونے کے دیر پا نتائج ہیں۔

محققین اسکول شروع کرنے کی عمر میں بڑی حد تک لچک لانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں جو ڈینمارک جیسے ممالک میں دیکھاگیاہے۔چھوٹے بچے بعد میں اسکول شروع کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کےکلاس میں سب سےچھوٹا ہونے کی وجہ سے منفی اثرات سے گزرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

جوناکنٹسی اس بات پر زور دیا کہ اسکول شروع کرنے کی عمر پر ملک بھرمیں نظرثانی کی جانی چاہیئےتاکہ بچوں کی بعد زندگی میں پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جاسکے۔