Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

ایک نئی تحقیق کےمطابق فضائی اور آبی آلودگی انسانی جسم کی انفیکشنز اور زہریلے مواد سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔

میونیخ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ فضائی اور آبی بخارات کی زد میں آنا اور صحت کی متعدد معاملات کے درمیان واضح تعلق ہے۔

سائنسدانوں نےلعابی نظام(ایک ایسی جھلی جوجسم کی تری کے طور پر کام کرتی ہے اور انفیکشنز اور زہریلے مواد کےخلاف پہلی دفاعی صف ہے) پر آلودگی کےاثرات پرکی جانےوالی گزشتہ سائنسی تحقیق پر نظرثانی کی۔

تحقیق کےشریک مصنف اولیور لیلیگ کا کہنا تھا کہ لعابی رکاوٹیں جسم کے کئی نظاموں کو بچانے کےلئے نہایت اہمیت کی حامل ہیں لیکن یہ فنکشن تبھی ہوگا جب ہم اس کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ افسوس کے ماحول میں موجود مائیکرو اور نینو پارٹیکلز ہمارے لعابی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

فضاء اور پانی میں موجود آلودگی کے لعابی نظام پر چار بڑے اثرات ہوتے ہیں۔ ساختی تبدیلیاں اس جھِلّی میں سوراخ کرسکتی ہیں۔

پیتھوجنز اور ٹاکسنز ذرّات پر لد کر جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔خلیے یا تو بہت زیادہ لعاب بنانے ہیں یا بہت کم دونوں صورتیں اس نظام کےبچاؤ کےلئےاچھی نہیں۔بالآخر لعاب کا معیار میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا لعاب مختلف اجزاء کا پیچیدہ مرکب ہے اور اس کا اس کا درست بننا اہم ہوتا ہے۔

لیلیگ نے مزید کہا لعاب کا سیاہ کاربن یا مائیکرو پلاسٹک سے آلودہ ہونا ایک سے منفی اثرات رکھتا ہے اور لعابی سانچے اور اس کے فعل کو بدل سکتا ہے۔

صرف سانس لینے، کھانے اور پینے سے جسم اس آلودگی کی زد میں آجاتا ہے اور صحت پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔