Aaj TV News

BR100 4,671 Increased By ▲ 6 (0.13%)
BR30 18,834 Increased By ▲ 160 (0.86%)
KSE100 45,369 Increased By ▲ 297 (0.66%)
KSE30 17,576 Increased By ▲ 146 (0.84%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,254 414
DEATHS 28,737 9
Sindh 475,820 Cases
Punjab 443,185 Cases
Balochistan 33,484 Cases
Islamabad 107,722 Cases
KP 180,075 Cases

سینیئر طالبان رہنماء کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے.

سینیئر طالبان رہنماء وحید اللہ ہاشمی نے رائٹر کو بتایا کہ عورتوں کو ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے کےلئے عالمی دباؤ کے باوجود طالبان مکمل طور پر اسلامی قانون نافذ کریں گے.

گزشتہ ماہ طاقت میں آنے کے بعد طالبان حکام نے کہا تھا کہ خواتین شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے کام اور تعلیم حاصل کرسکیں گی.

لیکن ان کے اپنے کہے پر عمل پیرا ہونے کے متعلق غیر یقینی پائی جاتی ہے. 1996-2001 کی حکومت میں طالبان کی جانب سے خواتین پر نوکری اور تعلیم پر پابندی عائد تھی.

وحید اللہ کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان میں شریعت کا نظام لانے کےلئے 40 سال تک لڑائی کی ہے. شریعت مردوں اور عورتوں کو ایک چھت کے نیچے مل کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے.

انہوں نے مزید کہا یہ بات صاف ہے کہ مرد اور عورتیں ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے. انہیں ہمارے دفاتر میں آنے کی اور ہماری وزارتوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے.

کابل پر قابض ہونے کے بعد ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے رپورٹز سے کہا تھا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور وہ مختلف شعبوں میں کام کریں گی.