Aaj TV News

BR100 4,979 Decreased By ▼ -47 (-0.94%)
BR30 24,460 Decreased By ▼ -313 (-1.26%)
KSE100 46,636 Decreased By ▼ -284 (-0.61%)
KSE30 18,480 Decreased By ▼ -178 (-0.95%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

سینیئر طالبان رہنماء کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے.

سینیئر طالبان رہنماء وحید اللہ ہاشمی نے رائٹر کو بتایا کہ عورتوں کو ان کی مرضی کے مطابق کام کرنے کےلئے عالمی دباؤ کے باوجود طالبان مکمل طور پر اسلامی قانون نافذ کریں گے.

گزشتہ ماہ طاقت میں آنے کے بعد طالبان حکام نے کہا تھا کہ خواتین شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے کام اور تعلیم حاصل کرسکیں گی.

لیکن ان کے اپنے کہے پر عمل پیرا ہونے کے متعلق غیر یقینی پائی جاتی ہے. 1996-2001 کی حکومت میں طالبان کی جانب سے خواتین پر نوکری اور تعلیم پر پابندی عائد تھی.

وحید اللہ کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان میں شریعت کا نظام لانے کےلئے 40 سال تک لڑائی کی ہے. شریعت مردوں اور عورتوں کو ایک چھت کے نیچے مل کر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے.

انہوں نے مزید کہا یہ بات صاف ہے کہ مرد اور عورتیں ایک ساتھ کام نہیں کرسکتے. انہیں ہمارے دفاتر میں آنے کی اور ہماری وزارتوں میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے.

کابل پر قابض ہونے کے بعد ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے رپورٹز سے کہا تھا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور وہ مختلف شعبوں میں کام کریں گی.