Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,022 391
DEATHS 28,753 8
Sindh 476,233 Cases
Punjab 443,310 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,811 Cases
KP 180,194 Cases

پاکستانی میڈیا پر موجودہ دور حکومت میں ہونے والی مہنگائی کا تذکرہ تو رہتا ہی ہے، اس مرتبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر میں نسوار کی قیمت میں اضافے کے ایک مبینہ معاہدے کی کاپی شیئر کرنے والے اسے مختلف انداز میں گفتگو کا موضوع بنائے ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر 'مہنگائی کے باعث نسوار کی قیمت بڑھانے اور اس پر عمل نہ کرنے والے نسوار فروشوں کو جرمانے' کا معاہدہ شیئر کیا گیا، ساتھ ہی اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی تحریر میں معاملے کی تفصیل بھی شیئر کی گئی ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ضلع دیر میں ہونے والے معاہدے کے مطابق مختلف علاقوں تیمر گرہ، بلامبٹ وغیرہ میں آج 23 ستمبر سے نسوار کی قیمت 20 روپے فی ٹکی مقرر کی گئی ہے جو اس سے قبل 10 یا 15 روپے ہوا کرتی تھی۔

معاہدے کی وائرل کاپی کے مطابق دیر یا باجوڑ میں بھی نسوار اسی فیصلے کے تحت فروخت کی جائے گی البتہ ڈویژن کے دیگر اضلاع بونیر، سوات، مالاکنڈ، چترال کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

فیصلے پر عملدرآمد لازم قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ایسا نہ کرنے والوں پر نہ صرف 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے بلکہ ایسی دکان کو بھی ایک ماہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

نسوار کی قیمت میں اضافے کے معاہدے کی کاپی پر تبصرہ کرنے والوں نے کہیں اسے مزاح کا موقع بنایا تو کہیں پشتون افراد یا نسوار استعمال کرنے والوں کو دلاسہ دیتے رہے۔

مسلسل دوسری مدت کے لیے خیبرپختونخوا میں برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کا مستقبل سوال بنا تو کچھ صارفین نے خدشے کا اظہار کیا کہ ’پی ٹی آئی تو گئی اب خیبر پختونخوا سے۔‘

پشتو میں ’دا خو سخت ظلم او شو (یہ تو بڑا ظلم ہوا ہے) کا تبصرہ ہوا تو ایسا کرنے والے دوسروں کو مینشن کر کے بات بھی آگے بڑھاتے رہے۔

یونس نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اسے ’برداشت سے باہر ظلم‘ کہا تو لکھا ’وہ صوبہ جس نے عمران خان کو سب سے زیادہ ووٹ دیے اس کے باسیوں کو اس ظلم پر بولنا ہو گا۔‘

دیر میں نسوار کی قیمتیں بڑھانے سے متعلق معاہدے کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ بھی مہنگائی سے متعلق گفتگو کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔

خوردنی تیل کی 400 فی کلوگرام کی سطح کے قریب پہنچتی قیمت پر تبصرہ کرنے والے صارفین میں سے کچھ کرکٹ کے شائق نکلے تو سابق ویسٹ انڈین کرکٹر برائن لارا کی 400 رنز کی انفرادی اننگز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے دکھائی دیے کہ ’پاکستان میں گھی کی قیمت کا برائن لارا کی اننگز سے مقابلہ جاری ہے۔‘