Aaj TV News

BR100 4,660 Increased By ▲ 141 (3.13%)
BR30 18,804 Increased By ▲ 527 (2.88%)
KSE100 45,330 Increased By ▲ 1216 (2.76%)
KSE30 17,550 Increased By ▲ 516 (3.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,365 176
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

کراچی : سانحہ مہران ٹاؤن کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے،کراچی کی مقامی عدالت نے سرکاری اداروں کو مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دے دیا ۔

کراچی کی مقامی عدالت میں سانحہ مہران ٹاؤن کیس کی سماعت ہوئی جہاں عدالت نے ڈپٹی کمشنر کورنگی ،ایڈمنسٹریٹر کورنگی سمیت اہم افسران کا ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ملزمان کو مفرور افسران کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ۔

مفرور ملزمان میں ڈی سی کورنگی، ڈپٹی ڈائریکٹر انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی ،جنرل منیجر اے الیکٹرک،ہیڈ آف نیو کنیکشن کے الیکٹرک ، ایگزیکیٹیو انجنیئر کے ڈی اے ذاہد حسین، صفدر علی بھگیو ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور انچارج فائر بریگیڈ اشتیاق احمد بھی مفرور ملزمان میں شامل ہیں ۔

عدالت کاکہناہے کہ اگر تمام ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرتے تو معصوم افراد کی جان نہ جاتی ۔

عدالت نے محکمہ لیبر کے افسر کا نام ملزمان کی فہرست سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ محکمہ لیبر نے فیکٹری کو نوٹس جاری کیا تھا ، فیکٹری مالکان کے خلاف لیبر کورٹ میں کیس بھی دائر کیا جاچکا ہے۔

عدالت نے پولیس چالان منظور کرتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا،عدالت کاکہناتھا کہ تفتیشی حکام ڈپٹی کمشنر اور دیگر کو بچانا چاہتے ہیں ، جرم میں بالواسط ذمہ داروں کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا، جرم کو روکنے میں ناکامی شریک جرم ہے، متعلقہ افسران معصوم شہریوں کی ہلاکت کے برابر ذمہ دار ہیں ۔

عدالت نے کہا کہ ڈی سی نے کبھی علاقے کا دورہ نہیں کیا، رہائشی پلاٹ پر کمرشل سرگرمیاں ہوتی رہیں ،ڈی سی سول ڈیفنس سمیت میونسپل اداروں کے بھی سربراہ ہیں، ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے نوٹس کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا ، ڈائریکٹر سول ڈیفنس نے غفلت برتنے پر کسی افسر کیخلاف کارروائی نہیں کی۔

عدالت نے مزید کہا کہ رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے پر کے ڈی اے نے کوئی کارروائی نہیں کی،کے الیکٹرک نے خلاف ضابطہ رہائشی پلاٹ پر کمرشل پی ایم ٹی نصب کیا ،محکمہ ماحولیات نے کبھی جائزہ نہیں لیا کہ فیکٹری قوانین کے مطابق چل رہی ہے یا نہیں ؟ ۔