Aaj TV News

BR100 4,401 Decreased By ▼ -270 (-5.78%)
BR30 17,494 Decreased By ▼ -1340 (-7.12%)
KSE100 43,234 Decreased By ▼ -2135 (-4.71%)
KSE30 16,698 Decreased By ▼ -878 (-4.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن نے منگل کو گزشتہ ماہ نکالے گئے طالب علم کا داخلہ بحال کردیا. ادارے نے طالب علم کو مبینہ ہراسگی کے معاملے کو عوامی سطح پر بیان کرنے پر یونیورسٹی سے نکالا تھا.

آئی بی اے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ طالب علم کی ڈسپلینری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف یونیورسٹی کے ایگزیکٹِو ڈائریکٹر کے سامنے سنوائی کے بعد لیا گیا.

ترجمان کے مطابق سنوائی میں طالب علم محمد جبرائیل نے آئی بی اے کےلئے احترام کی یقین دہانی کرائی.

ترجمان نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی اپیل سے وہ چیزیں بھی واپس لیں جو ان کے نکالے جانے سے تعلق نہیں رکھتی تھیں.

سنوائی کے بعد ایگزیکٹِو ڈائریکٹر نے جبرائیل کا بطور طالب علم آئی بی اے داخلہ فوری بحال کردیا.

یاد رہے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ڈسیپلن کمیٹی نے سوشل میڈیا پر ہراسگی کے واقعے کی تفصیلات ڈالنے والے طالب علم محمد جبرائیل کو یونیورسٹی سےنکال دیا تھا. طالب علم کا دعویٰ ہے کہ وہ واقعے کا شاہد ہے.

بدھ 29 ستمبر کو فیس بک پر جاری بیان میں آئی بی اے کا کہنا تھا کہ ڈسیپلنری کمیٹی نے طالب علم کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ آئی بی اے اپنے اصول و ضوابط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرتا.

بیان میں مزید کہا گیا کہ بی ایس اکنامکس پروگرام کے طالب علم کی آئی بی اے کمیونیٹی کے متعدد ممبران نے رہنمائی کی لیکن باوجود رہنمائی کہ طالب علم نے درست راستے پر چلنے سے انکار کیا.

خیبرپختونخوا کے علاقے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے جبرائیل کا کہناتھا کہ آئی بی اے نے ان سے واقعے کو سوشل میڈیا پر اٹھانے پر معافی مانگنے کا کہا.

انہوں نے مزید کہا کہ ادارے نے انہیں پوسٹ نہ ہٹانے اور عوامی معافی نہ مانگنے پر ادارے سے نکالنے کی دھمکی دی.

طالب علم نے اپنی تازہ ترین پوسٹ میں کہا ہے کہ میں معافی نہیں مانگوں گا چاہے اس کی قیمت میرا سر ہو.

طالب علم کی جانب سے اگست میں کی گئی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا پر کافی بحث ہوئی. آئی بی اے کے طلباء نے کیمپس میں احتجاج کیا اور جبرائیل کے دعووں کی تحقیقات کرانے اور متعلقہ شخص کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا.