Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف سطح کے مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوگئے، آئی ایم ایف نے پاکستان کو بجلی کی قیمت، انکم و سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیز بڑھانے کی تجاویز دے دیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا جارہا ہے اور آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5.8 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 6.3 ٹریلین روپے مقرر کرنے کی تجویز دی جارہی ہے۔

اس نظر ثانی شدہ ہدف کے حصول کے لیے سیلز ٹیکس میں دی جانے والی غیر ضروری چھوٹ ختم کرنے اور اسی طرح انکم ٹیکس میں چھوٹ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی جانب سے مزید ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی ٹیم اور آئی ایم ایف کی ٹیم کے درمیان مذاکرات اب حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ اسٹاف سطح کے مذاکرات 15 اکتوبر 2021ء تک مکمل ہوجائیں گے۔

اسی طرح پالیسی سطح کی حتمی بات چیت وزیر خزانہ شوکت ترین اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران کریں گے جس کے لیے وزیر خزانہ شوکت ترین آئندہ منگل کو امریکا کے دورے پر جارہے ہیں جہاں وہ آئی ایم ایف و عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور اہم سائیڈ لائن میٹنگز بھی کریں گے۔

شوکت ترین کے دورہ امریکا کے دوران پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ کی کامیابی سے تکمیل کی صورت میں آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ نومبر کے اختتام تک پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالرز کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دے گا۔

اگرچہ آئی ایم ایف کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی ٹیکس وصولیوں کو سراہا ہے لیکن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کی موجودہ رفتار غیر مستحکم ہے اس لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔

ٹیکس وصولیوں کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے کہا جارہا ہے کہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی کے حوالے سے مزید ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ٹیکس وصولیاں 58 کھرب کے بجائے 63 کھرب ہوسکیں۔

آئی ایم ایف نے بجلی کی بنیادی قیمتوں میں بھی 1.40 روپے فی یونٹ اضافہ کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ بڑے گردشی قرضے کو قابو کیا جاسکے۔

دوسری جانب قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق کا کہبنا تھا کہ آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں لیکن آئی ایم ایف، ایف بی آر کی کارکردگی سے مطمئن ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہدف سے 186 ارب روپے زائد جمع کیے، ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔