Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے مختلف حصوں میں رائج "سوارہ" کی رسم کو اسلامی شریعت کے منافی قرار دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل فل بینچ نے ریمارکس دیے کہ کم عمر لڑکی کو دے کر تنازعات حل کرنے کی روایت اسلامی احکامات کے خلاف ہے۔

سوارہ یا ونی سے متعلق سکینہ بی بی کی درخواست پر سماعت کے دوران فاضل عدالت نے قرار دیا کہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ رسم، جو ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے رائج ہے، قطعاً غیر اسلامی اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عدالت نے وضاحت کی ہے کہ اس رسم کے خلافِ اسلام ہونے پر جمہور علما کا اجماع ہے۔

واضح رہے سوارہ جیسی قبیح رسم میں تنازعات ختم کرنے کے لیے تلافی کے طور پر لڑکیاں اور اکثر کم سن بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے یا انہیں متاثرہ خاندان کو بطور غلام دے دیا جاتا ہے۔ ایسا اکثر قتل کے کیس میں کیا جاتا ہے۔ یہ بغیر رضامندی یا کم عمری میں شادی کی قسم ہے۔ سزا کا یہ فیصلہ قبائلی عمائدین کی کونسل کی جانب سے کیا جاتا ہے جسے جرگہ کہتے ہیں۔

درخواست گزار نے ونی کے رواج کو متعدد وجوہات کی بنا پر چیلنج کیا تھا۔ درخواست کے مطابق تنازعات کے حل کے لیے جرگوں یا پنچائیت میں دی جانے والی یہ سزائیں، خواتین یا کمسن لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ جرگہ یا پنچائیت "بدلِ صلح" کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں اور یہاں مسئلے کو حل کرنے کے لیے تلافی کے طور پر کم عمر لڑکیاں متاثرہ خاندان کے حوالے کردی جاتی ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اس رواج کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

وفاقی شرعی عدالت میں جیورسٹ کونسل ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کا کہنا تھا کہ ونی، خواتین کے کم وبیش چار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق ملزم خاندان کی جانب سے دی جانے والی لڑکی کے ساتھ متعصبانہ سلوک کیا جاتا ہے جبکہ متعدد کیسز میں انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری بات یہ ہے کہ ان لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے بغیر کسی بھی شخص سے کر دی جاتی ہے اور تیسرا مسئلہ یہ کہ وہ مہر کی حقدار ہوتی ہیں نہ ہی شادی کو ختم کرنے کے لیے خلع کی قانونی درخواست دائر کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کا مزید کہنا تھا کہ قتل کے کیس کو حل کرنے کا قانونی طریقہ دِیَت یا خون بہا کی رقم ہے جو اسلام میں بھی قابل قبول ہے۔ تاہم روایتی نظام میں تنازعات کو حل کرنے کے لیے ونی یا سوارہ کو جائز سمجھا جاتا ہے لیکن علما اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہیں۔