کالعدم تنظیم کے 1860 کارکنوں کی رہائی کا فیصلہ
حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان معاہدے کے تحت کالعدم تنظیم کے 1860 کارکنوں کی رہائی کی منظوری دے دی گئی۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو احکامات جاری کردئیے ۔
حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان ہونے والے معاہدے پرعملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔
پہلے مرحلے میں حکومت کی جانب سے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے کالعدم تنظیم کے 860 افراد کو رہا کیا گیا۔
اسٹئرنگ کمیٹی کی سفارش پر دوسرے مرحلے میں محکمہ داخلہ پنجاب نے مزید ایک ہزارافراد کو رہا کرنے کی منظوری دیدی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب تک 1860 کالعدم تنظیم کے کارکنان کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جن افراد کورہا کیا گیا ان پر مقدمات درج نہیں تھے۔ جن افراد کےخلاف مقدمات درج ہیں ان کےکیسزکاجائزہ لیاجارہا ہے۔
کالعدم تنظیم کےترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت مزید گرفتار کارکنان کو رہا کرے گی جبکہ حکومت نے فورتھ شیڈول میں شامل کارکنان کی فہرست بھی مانگ لی ہے۔
کالعدم تنظیم سے معاہدہ ،قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا فیصلہ
ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس 5 نومبر کو بلائے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
کالعدم تنظیم سے معاہدہ سمیت دیگر سیاسی امور زیر غور آئیں گے۔
اجلاس میں اہم قانون سازی بھی کی جائے گی،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران ہی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائیگا۔
زرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس 5نومبر کو بلائے جانے کا امکان ہے، اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال خاص طور پر کالعدم تنظیم کے مظاہرین سے پیدا شدہ حالات اور حکومت کے اور تنظیم کے درمیان معاہدے کے حوالے سے بحث کا امکان ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔