'عمران خان نے اے پی ایس متاثرین کو بے یارومددگارچھوڑ دیا'

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں عمران خان نے اے پی...
شائع 11 نومبر 2021 12:09am

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کہتی ہیں عمران خان نے اے پی ایس متاثرین کو بے یارومددگارچھوڑ دیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پیسے دیکر آپ ان بچوں کو واپس لاسکتے ہیں؟

مریم اورنگزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ حکومت سےچینی اور پیٹرول چوری کا پوچھیں گے جس پر ایک جواب ملے گا کہ پچھلی حکومتوں نے کیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 8سال سےخیبرپختونخوامیں عمران خان کی حکومت ہے۔

ترجمان نے الزام عائد کیا کہ آپ نےاےپی ایس متاثرین کوبےیارومددگارچھوڑدیا، کیاآپ سمجھتےہیں کہ پیسےدیکربچوں کوواپس لاسکتےہیں؟

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کیا آپکو سپریم کورٹ بتائے گی کہ آپکو کیا کرنا ہے؟ ان سے پوچھیں جن کے بچے شہید ہوئے،

ترجمان مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ اسوقت کےوزیراعظم نےنیشنل ایکشن پلان دیاجسےآپ نےدفن کیا، اسوقت کےوزیراعظم نےآپریشن ردالفساد اورضرب عضب دیا، جب آپ وزیراعظم بنے توآپ نےان تمام چیزوں کوختم کردیا۔

سپریم کورٹ کا حکومت کو سانحہ اے پی ایس متاثرین کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھانے کا حکم

پہلے سپریم کورٹ نے حکومت کو سانحہ اے پی ایس متاثرین کے ساتھ مل کراقدامات اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت2ہفتوں کے اندررپورٹ جمع کروائے ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ کے حکم پر وزیراعظم عمران خان عدالت میں پیش ہوئے، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید ،دیگر وزرا ءاور اہم حکام بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم کے عدالت میں پیش ہونے پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ آئے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں اس وقت کے حکام کیخلاف کارروائی ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سانحہ اے پی ایس بہت دردناک تھا، عوام شدید صدمےمیں تھی جب سانحہ ہوا تو کے پی میں ہماری حکومت تھی، سانحہ کی رات ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس بلایا تھا۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ ہمارے وزیراعظم ہیں ،ہمارے لئے قابل احترام ہیں، آپ کیس کے معاملے پر بات کریں تو وزیراعظم نے کہا کہ میں سیاق و سباق کے حوالےسے بتانا چاہتاہوں، جب یہ سانحہ ہوا تو فوراً پشاور پہنچا، سانحہ کےبعد کےپی میں ہماری حکومت نے ہرممکن اقدامات کئے،صوبائی حکومت جو بھی مدد کرسکتی تھی وہ کی۔

وزیراعظم کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کیلئے کیا کیا؟، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا، ججز نے ریمارکس دئیے کہ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو ان لوگوں سےمذاکرات کررہےہیں۔

جس پر وزیراعظم نے کہا کہ آپ مجھے بات موقع دیں میں ایک ایک کرکےوضاحت کرتاہوں تو چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سےکوئی سروکار نہیں، اتنے سال گزرنےکےبعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟۔