آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے امریکی ، روس اور چین کے نمائندہ خصوصی کی ملاقاتیں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ، روس اور چین کے نمائندہ...
شائع 12 نومبر 2021 07:21pm

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ، روس اور چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے ملاقاتیں کی ہیں ۔اور باہمی تعاون،علاقائی سیکیورٹی ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ، تینوں نے افغان صورتحال، سرحدی انتظام کی خصوصی پاکستانی کاوشوں کو سراہا۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے امریکہ ، چین اور روس کے نمائندہ برائے افغانستان نے ملاقات کی۔

ملاقات میں باہمی تعاون،افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ روائتی ،باہمی تعلق اور طویل مدتی تعاون کا خواہاں ہے ۔

آرمی چیف نے افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے دنیا پر تعاون و مدد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا افغان عوام کی معاشی بہتری کے لیے تعاون کرے ۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان تمام علاقائی ممالک سے دوطرفہ سطح پر مفید تعلقات کی روایت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روس کے ساتھ طویل المیعاد کثیر الجہتی تعلقات کا خواہشمند ہیں۔

ملاقات میں تینوں نمائندہ خصوصی نے افغان صورتحال، سرحدی انتظام کی خصوصی پاکستانی کاوشوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی علاقائی استحکام کے لیے کاوشیں انتہائی قابل قدر ہیں۔ پاکستان سے ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید وسعت کے لیے پرعزم ہیں۔

افغانستان کے معاملے پر ٹرائیکا پلس کا اہم اجلاس

گزشتہ روز چین، پاکستان، روس اور امریکا کے ’ٹرائیکا پلس‘ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، اجلاس میں اعتدال پسندانہ پالیسیوں کے نفاذ کی حوصلہ افزائی کیلئے طالبان کے ساتھ عملی روابط جاری رکھنے پر اتفاق کرلیا گیا تاہم افغانستان میں پیدا ہونے والے انسانی بحران اور معاشی حالات پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

پاکستان کی میزبانی میں ہمسایہ ملک افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیلئے امریکا، چین اور روس کے سفارت کاروں کی بیٹھک ہوئی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب میں کہا کہ افغانستان معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، عالمی برادری منجمد وسائل تک رسائی اور ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔ طالبان رابطوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں تمام ممالک نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو ہر سطح پر تعلیم تک رسائی پر زور دیا۔ اعلامیے میں قرار دیا کہ کہ طالبان پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں تاکہ افغانستان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔

اعلامیہ میں افغانستان میں غیر ملکی شہریوں اور اداروں کے تحفظ اور جائز حقوق کے احترام پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں شریک امریکا ، چین، پاکستان اور روس کے نمائندگان نے اپنی اس توقع کا اعادہ کیا کہ طالبان اپنے ہمسایوں، خطے کے دیگر ممالک اور باقی دنیا کے خلاف دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے اپنے عزم کو پورا کریں گے۔