'حکومتی اتحادیوں کی گردنیں مروڑ کر مشترکہ اجلاس میں آنے پر مجبور کیا جارہا ہے'
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کل کوئٹہ میں مہنگائی کے خلاف بڑا عوامی اجتماع ہوگا ریلی بھی نکالی جائیگی، پارلمینٹ کے سامنے بچے فروخت کیے جارہے ہیں مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ عوام پر مہنگائی اور ٹیکسز کے پہاڑ گرائے جارہے ہیں 20 نومبر کو پشاور میں بھی اسی طرح کا بڑا عوامی مظاہرہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ناجائزو دھاندلی کی پیداوار حکومت ایسی قانونی سازی کررہی ہے کہ آئندہ بھی حکومت میں یہی لوگ آجائیں لیکن متحدہ اپوزیشن حکومت کو ایسی قانونی سازی کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
پی ڈی ایم سربراہ کاکہنا تھا کہ حکومت کے اتحادی جماعتوں کی گردنیں مروڑ کر مشترکہ اجلاس میں جانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کا احترام کرتے ہیں مگر آج پھر ان کی غیر جانبداری مجروح ہورہی ہے، آخر مجبوری کیا ہے کہ 19 دسمبر سے پہلے یہ کرنا چاہتے ہیں، یہ تمام چیزیں اشارہ کررہی ہیں کہ ادارے یا کسی شخصیت کی 19 سے پہلے کوئی کمٹمنٹ ہوئی ہے۔
فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاست میں ناجائز مداخلت ہوگی تو گلہ کرنا ہمارا حق ہے، ہم پھر بھی ہمیشہ کی طرح آئینی وقانونی راستہ اختیار کریں گے، پی ڈی ایم ان قوانین کا جائزہ لیکر عدالت جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ تمام صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امن و امان انسانی حقوق ، شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے قائم ہوتا ہے، اس وقت نوجوانوں کوگھروں سے اٹھاکر لاپتہ کیا جارہا ہے، شقی القب قوتیں سمجھتے ہیں کہ ایسا کرکے وہ ریاست کی خدمت کررہے ہیں، اس وقت جمہوری ملک میں ڈکٹیٹر شپ جیسا ماحول ہے۔
انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سابق چیف جسٹس سے متعلق بیان پر تحقیقات ہونی چاہیئے، ہر چیز پر مٹی پاو کا فارمولا نہیں چل سکتا، یہ چیزیں عدالت پر ایسے داغ ڈال رہے ہیں کہ ماضی کے تمام فیصلوں پر شکوک پیدا کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال سے حکومت چل نہیں رہی چلائی جارہی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان ہاوس تبدیلی پر صورتحال کے مطابق چلیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں حکومت کو جبری اکثریت حاصل ہے ہمارے پاس رپورٹیں ہیں کہ اتحادیوں کو سپورٹ کرنے اور اپوزیشن اراکین کو اجلاس میں نہ آنے کیلئے کہا جارہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اسد عمر کے بیان سے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھڑکیں نہ ماریں ہم نے فیصلہ کیا تو اقتدار سے اٹھاکر باہر پھینک دیں گے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔