پارلیمنٹ، مشترکہ اجلاس، حکومتی قانون سازی یکطرفہ قرار
پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن نے حکومتی قانون سازی کو یکطرفہ قرار دے دیا گیا۔
اپوزیشن اسپیکر سے نالاں ہوگئی اور اسدقصرکے خلاف عدم اعتماد کا عندیہ دے دیا ۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے کہا اسپیکراورحکومت گٹھ جوڑعیاں ہوگیا، جے یوآئی ،اے این پی ، جماعت اسلامی سمیت متحدہ اپوزیشن نے یک طرفہ قانون سازی کو قراردےدیا۔
متحدہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔
پریس کانفرنس میں قائد حذب اختلاف شہبازشریف نے کہا اسپیکرنے دوبارہ گنتی کی درخواست نہیں مانی، اسپیکرتمام بلزمنظورکروانے پرباضد تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکرنے قواعد کو روندا اوردھجیاں اڑائیں۔
دوسری جانب پی پی چیئرمین بلاول بھٹونےبھی حکومت کوتنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکومت کو شکست ہوئی ہے، بل کی منظوری کیلئے 222 ووٹ ضروری تھے،اور نہ کلبھوشن کواین آراو ملا نہ ہی ای وی ایم بل منظورہوا،
بلاول کا کہنا تھا کہ آج کوئی قانون سازی نہِیں ہوئی، سپریم کورٹ میں چیلنج کریںگے۔
مولانا اسعد محمود اورامیرحیدرہوتی نے یکطرفہ قانون سازی قرار دیتے ہوئے اس کو مستردکیا۔
جب کھلاڑی میدان میں اترتا ہے تو ہر چیز کیلئے تیار ہوتا ہے، وزیراعظم
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس آمد پروزیراعظم عمران خان نے میڈیانمائندوں سےغیررسمی گفتگو کی، اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ آپ اتنی ملاقاتیں کررہے ہیں، کیا کوئی پریشانی ہے؟جس پر وزیراعظم نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے صحافی کو جواب دیا کہ کون ملاقاتیں کررہا ہے؟۔
صحافی نے وزیراعظم سے دوبارہ سوال کیا کہ اپوزیشن کہتی ہے آج آپ کو سرپرائز ملے گا،جس پر وزیراعظم عمران خان نے صحافی کو جواب دیا کہ جب کھلاڑی میدان میں اترتا ہے تو ہر چیز کیلئے تیار ہوتا ہے، میدان میں موجود کھلاڑی کہتا ہے جوبھی مخالف کرےگا،میں اس سے بہتر کروں گا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔