Aaj.tv Logo

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی وجہ سےسب سےزیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا، افغانستان کی مدد کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام معزز مہمانوں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں،خوشی کی بات ہے کہ اجلاس میں شامل تمام ممالک افغانستان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورت حال کا سامنا نہیں رہا، افغانستان میں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اور بینکنگ نظام جمود کا شکار ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 15اگست کےبعدافغانستان ک اثاثےمنجمد کردیئےگئے،اثاثےمنجمد ہوجائے توکوئی بھی ملک تباہ ہوسکتا ہے ، افغانستان جتنی مشکلات کسی ملک نے برداشت نہیں کیں،افغانستان کی وجہ سےسب سے زیادہ نقصان پاکستان نےاٹھایا،افغانستان کی مدد کرنا ہماری مذہبی ذمہ داری ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نےمزیدکہا کہ افغان آبادی غربت کی سطح سےنیچےآتی جارہی ہے،افغانستان کا مسئلہ سنگین ہوتا جارہا ہے، انسانی بنیادوں پرافغانستان کی مدد کی ضرورت ہے، افغان مسئلے پر دنیا کی خاموشی افسوسناک ہے، افغانستان کا انحصار 70فیصدبیرونی امداد پرہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں افغانستان کےحالات کوسمجھنےکی ضرورت ہے،افغان سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کیلئے پیسے نہیں ، افغان انتظامیہ ان حالات میں دہشت گردی کامقابلہ نہیں کرسکتی،مستحکم حکومت ہی دہشت گردی کا مقابلہ کرسکتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں جنگ سے پاکستان کواربوں ڈالرزکانقصان ہوا ،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70ہزارجانوں کی قربانی دی،پاکستان 30لاکھ سےزائدافغان مہاجرین کی میزبانی کررہاہے،افغانستان کیلئےفوری امداد کی ضرورت ہے،بروقت امداد نہ کی تو افغانستان میں افراتفری پھیلےگی،افغانستان میں افراتفری سےپوری دنیا متاثر ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائین الیون کےبعد دنیا میں اسلامو فوبیا پھیلا،مغرب میں دہشت گردی کواسلام سےجوڑا گیا،مغرب میں لوگ اسلام کےبارےمیں علم نہیں رکھتے،ہمیں مغرب کواسلام کا اصل چہرہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی گئی ہے،اتھارٹی میں اسلامک اسکالرز تحقیق کریں گے،دنیانہیں جانتی کہ توہین رسالتﷺپرہم پرکیاگزرتی ہے،مغرب نہیں جانتاکہ ہم رسول اللہﷺسےکیسی محبت کرتےہیں، اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے او آئی سی کردار ادا کرے۔