Aaj.tv Logo

اسلام آباد: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری 2022 کے حوالے سے پہلی سینسائزیشن ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

ایک روزہ ورکشاپ میں تعلیمی اداروں، محققین، پالیسی سازوں کے ساتھ ساتھ عوام کی حساسیت کو نمایاں کیا گیا کیونکہ یہ ایک اہم ہم آہنگی کے آغاز کی علامت ہے جو پی بی ایس اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پوری قومی سرگرمی کے دوران موجود رہے گا۔

اس تقریب میں کلیدی تقاریر، 7ویں آبادی اور ہاؤسنگ مردم شماری-2022 پر پریزنٹیشن کا احاطہ کیا گیا اور پہلی بار ڈیجیٹل مردم شماری، اسٹیک ہولڈرز اور پی بی ایس کے درمیان ایک مباحثہ سیشن بھی کرایا گیا۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے اپنی افتتاحی تقریر میں ڈیجیٹل مردم شماری کے اقدام پر حکومت پاکستان اور پی بی ایس کو مبارکباد دی۔

انہوں نے اس بات کو سراہا کہ جیو ٹیگنگ اور الیکٹرانک ڈیٹا اکٹھا کرنے سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور انہوں نے قومی کاز کیلئے ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی۔

ڈیجیٹل مردم شماری کے فوکل پرسن محمد سرور گوندل نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری کے نتائج کو وسیع پیمانے پر قبول کرنے کیلئے شروع سے آخر تک اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پی بی ایس کی ترجیح ہوگی۔

یہ مردم شماری کے عمل سے متعلق ان کے تصورات کو شفاف کرے گا اور مردم شماری کے عمل میں ان کی شمولیت اور ملکیت کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے 7ویں آبادی ہاؤسنگ مردم شماری کے انعقاد کیلئے مردم شماری کی مشاورتی کمیٹی کی سفارشات کے بارے میں مزید آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی بی ایس 5 سال کے وقفوں کے بعد مردم شماری کر رہا ہے، سی سی آئی کے فیصلے کے مطابق پہلی بار ڈیٹا کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے جدید ترین آلات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیو ٹیگنگ اور ٹیبلٹ پر مبنی، خود شماری کے نظام ہمارے اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد پیدا کریں گے جبکہ آبادی اور مکانات کی مردم شماری 2017 میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کو حل کرنے کیلئے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں، مزید یہ کہ مردم شماری کے مقاصد کو حل کرنے کیلئے تکنیکی کمیٹی کے ذریعے سوالنامہ تیار کیا گیا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں شماریات چیف ڈاکٹر نعیم الظفر نےاس قومی مقصد کیلئے دن رات کام کرنے والی پی بی ایس ٹیم کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ وہ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اسی لگن سے کام کریں گے۔