Aaj.tv Logo

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے، دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ معززمہمانوں کی آمد پر شکر گزار ہوں، اجلاس کے شرکاء کو خوش آمدیدکہتاہوں، او آئی سی ارکان کوخصوصی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 15مارچ کو اسلاموفوبیا سے تدارک کا دن منایا جائے گا، 15مارچ کو نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہوا تھا، حملے کی بڑی وجہ اسلاموفوبیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ برطانیہ میں عمر کا طویل حصہ بسر کیا،9/11کےبعددنیامیں اسلاموفوبیاپھیلا، مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑا گیا، مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، اسلاموفوبیا ایک حقیقت ہے،مسلم ممالک کو اسلامو فوبیا کیخلاف آواز اٹھانی چاہیئے تھی ۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اسلام صرف ایک ہےجورسول اللہﷺ لےکرآئے،کوئی قدامت پسند،جدید اور روشن خیال اسلام نہیں ہے، اسلامی تعلیمات کوسمجھنے کی ضرورت ہے،اسلام امن کادین ہے، اسلام کےمعنی ہی سلامتی ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غیرمسلم ممالک میں اسلام سےمتعلق غلط فہمی پھیلائی گئی،مغرب کومعلوم ہونا چاہیئے رسول اللہﷺکا ہمارےکیلئےکاسمقام ہے،مغرب توہین کوآزاد اظہار رائے سمجھتا ہے،کارٹون بناکرتوہین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،توہین آمیزحرکتوں سےہمیں تکلیف ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا،ریاست مدینہ کومثال بناکرپاکستان کی بنیادرکھی گئی ،پاکستان کواسلامی فلاحی ریاست بناس تھا،دیکھناہوگاکن بنیادوں پرریاست مدینہ عظیم بنی،رسول اللہﷺ رحمت اللعلمین ہیں،رسول اللہﷺتمام جہانوں کیلئےرحمت بناکربھیجےگئے،اللہ رب العزت تمام جہانوں کے رب ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کی بنیاد انصاف پررکھی گئی،ریاست مدینہ میں امیروغریب کیلئے ایک قانون تھا،غریب ممالک کی غربت کی وجہ وسائل کی کمی نہیں،غریب ممالک میں غربت کرپشن کی وجہ سے ہے، ہر سال 1.5ٹریلین ڈالرکی منی لانڈرنگ ہوتی ہے،غریب ممالک کو پیہر امیرممالک میں منتقل ہوتاہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کوبرابرکےحقوق ملنے چاہئیں،ریاست کاسربراہ بھی قانون کےماتحت ہونا چاہیئے،ریاست مدینہ میں غریبوں کااحساس تھا،ریاست مدینہ دنیاکی پہلی فلاحی ریاست تھی،ریاست مدینہ میں پہلی بارپنشن کانظام قائم ہوا،اسلام کی بنیاد رحم پر رکھی گئی،آج مغرب میں اسلامی نظام رائج ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ریاست مدینہ میں علم کےحصول پرزوردیاگیا،رسول اللہﷺنےفرمایا،علم حاصل کرو،چاہےچین جانا پڑے، اسلام میں خواتین کوبھی تعلیم دینے پرزور دیاگیا،اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا،اسلامی نظام میں غلام ریاست کےحکمران بنے،اسلام نےغلاموں کوگھرکےفردکی طرح رکھنےکاحکم دیا،جس نےرسول اللہﷺکی تعلیمات پرعمل کیاوہ عظیم ہوگیا،رسول اللہﷺکی تعلیمات صرف مسلمانوں کیلئےنہیں،جوبھی رسول اللہﷺکی سنت پرعمل کرےوہ عظیم ہوجائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ معاشرےمیں فحاشی سےجنسی جرائم بڑھے،موبائل فون کےبےجا استعمال سےفحاشی پھیلی،ہمیں رسول اللہﷺکی سنت سےبچوں کوروشناس کراناہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرمیں مظالم کا سلسلہ جاری ہے،مقبوضہ کشمیرمیں مظالم پرڈیڑھ ارب مسلمان خاموش ہیں ،بھارت نےکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کردی،بھارتی اقدام پردنیاکاکوئی ردعمل سامنےنہیں آیا،فلسطین پربھی مظالم کا سلسلہ جاری ہے،اوآئی سی کومسلمانوں پرمظالم کا نوٹس لینا چاہیئے،اوآئی سی کا مقصد اسلامی اقدار کا تحفظ یقینی بناناہے،افسوس ہےکہ آج اسلامی اقدار خطرے میں ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران جنم لےرہا ہے،40سال سےافغان عوام مشکلات کاشکار ہیں،افغانستان میں مداخلت کاسلسلہ بند ہونا چاہیئے۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سوچناہوگامسلم امہ کیسےروس یوکرین تنازع حل کرے،روس یوکرین تنازع ختم کرنے کیلئے آگے آناہوگا، روس یوکرین تنازع سےتیل اورگندم کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں،ڈیڑھ ارب مسلمانوں کواپنی طاقت کااندازہ نہیں،ہمیں خوداعتمادی سے آگے بڑھنا ہوگا ،تنازعات سےنکل کرہمیں امن کی جانب بڑھناہوگا۔