Aaj News

اسٹیبلشمنٹ نے تین آپشن دیے، میں نے قبل از وقت الیکشن کا انتخاب کیا: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر عوام ملک کو ٹھیک کرنے اور اس میں موجود گند کو صاف کرنا چاہتی ہے تو الیکشن میں ہمیں بھاری اکثریت دیں۔
اپ ڈیٹ 02 اپريل 2022 01:20am
وزیراعظم عمران خان۔  فوٹو — فائل
وزیراعظم عمران خان۔ فوٹو — فائل

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ اور قبل از وقت انتخابات کی آفر دی جس پر انہوں نے الیکشن کروانے کا انتخاب کیا ہے۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر عوام ملک کو ٹھیک کرنے اور اس میں موجود گند کو صاف کرنا چاہتی ہے تو الیکشن میں ہمیں بھاری اکثریت دے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگست میں ہی سازش کا اندازہ ہوگیا تھا، کابینہ کو پہلے ہی سازش سے متعلق آگاہ کردیا تھا جس میں میر صادق اور میر جعفر ہوتے ہیں، نواز شریف لندن میں لوگوں سے مل رہا تھا، اس نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا، ججز اور صحافیوں کو بھی خریدا گیا۔

انہوں نے کہا کہ زرداری اور نواز شریف کی وجہ سے ہم برصغیر میں پیچھے رہ گئے، نواز شریف کی بیٹی نے کُھل کر فوج پر تنقید کی لیکن میں کبھی بھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا، شہباز شریف غیر ملکی سازش کا حصہ ہیں اس لیے وہ قومی سلامتی کمیٹی میں نہیں آئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مراسلے میں لکھا ہے کہ عمران خان عدم اعتماد سے نکل گیا تو پاکستان کو بڑی مشکلات ہوں گی، عمران حکومت میں رہا تو پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیں گے اور اگر عمران خان عدم اعتماد میں ہار گیا تو پاکستان کو معاف کر دیں گے۔

سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ میری جان کو خطرہ ہے، وزیراعظم

عمران خان نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی کسی بلاک میں چلے گئے تو کبھی کسی اور بلاک میں، ذوالفقار علی بھٹو نے او آئی سی کا اجلاس کرایا تو انھیں کیسے مروایا گیا، یہ ہی جماعتیں اس وقت بھٹو کے خلاف سازش کا حصہ تھیں، یہ ہی فضل الرحمان، نواز شریف سازش کا حصہ تھے، باہر کے لوگوں کو یہاں کے میر صادق اور میر جعفر کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پرویز مشرف نے طاقت ہوتے ہوئےا ین آر او دیا جس کا مطلب ملک سے غداری کرنا ہے، نواز شریف و آصف زرداری کے مقابلے میں مشرف دور سنہرا دور لگتا ہے، ان لوگوں کو این آر او مل چکا ہے اور اب یہ مجھ سے این آر او 2 مانگ رہے ہیں لیکن حکومت اور جان دونوں چلی جائیں تو بھی این آر او نہیں دوں گا۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پاکستان کے 3 ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں، عراق، شام کی صورتحال کا جائزہ لے لیں، ہم فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں، نواز شریف کے ساتھ وہ بھی رابطے میں تھے جو افواجِ پاکستان کے خلاف ہیں، ان لوگوں کی کوشش ہے کہ ہم اقتدار میں آئیں، اگر ایسا ہوا تو یہ سب سے پہلے نیب سمیت ملکی اداروں کو تباہ کر کے ری اسٹیٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔

حکومت اور جان دونوں چلی بھی جائیں تو بھی این آر او نہیں دوں گا، عمران خان

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان چوروں نے نظریہ پاکستان کوہی بھلادیا، مذہبی ملک میں کوئی ہارس ٹریڈنگ کا سوچ بھی نہیں سکتا، میری خارجہ پالیسی سے ہرے پاسپورٹ کی عزت بڑھی اور ان کے دور حکومت میں ملک پر ڈرون حملے ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ کے حوالے سے مہم چلائی جارہی ہے، ان لوگوں نے میری کردار کشی بھی کرنی ہے، مجھے معلوم ہےکہ کون کس سفارت خانےمیں جاتا ہے، سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ میری جان کو خطرہ ہے کیونکہ ان سب کو معلوم ہے عمران خان خاموش ہوکر نہیں بیٹھے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے، مدرسے کے بچے نہ ہوں تو یہ لوگ جمع نہیں کرسکتے، کرائے کے لوگوں سے عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی، 27مارچ کے جلسے میں لوگوں کی بڑی تعداد خود آئی تھی۔

imran khan

pm

pm interview

Comments are closed on this story.

مقبول ترین