Aaj News

سیالکوٹ میں جلسے کا معاملہ، پی ٹی آئی نے جلسے کی جگہ تبدیل کردی

شفقت محمود نے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار سمیت تمام گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔
اپ ڈیٹ 14 مئ 2022 04:55pm
<p>اسکرین گریب فوٹو</p>

اسکرین گریب فوٹو

لاہور: مسیحی برادری کے احتجاج اور انتظامیہ کے ایکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے جلسہ کی جگہ تبدیل کردی۔

آج نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے سینیٹراعجاز چوہدری کے ہمراہ سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ اب سی ٹی آئی گراؤنڈ کے بجائے وی آئی پی گراؤنڈ میں ہوگا۔

پریس کانفرنس میں شفقت محمود نے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار سمیت تمام گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران سیالکوٹ آئیں گے، ہر صورت جلسہ ہوگا، ہمارے پر امن کارکنوں پرتشدد کیا گیا۔

شفقت محمود نے کہا کہ خواجہ آصف کے کہنے پر انتظامیہ نے تشدد کیا، عثمان ڈار اور دیگر رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے، انتظامیہ کےخلاف پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی بحرانوں کا واحد حل عام انتخابات ہیں، عام انتخابات نہ ہوئے تو بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔

تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا کہ تشدد اورآنسوگیس کی شیلنگ سے سیاسی بحران حل نہیں ہوگا، حکومت تشدد کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما محمود الرشید نے کہا کہ اپنے لیڈر کی ہدایت پر پر امن ہیں، سیالکوٹ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

پریسٹیجیس چرچ کے عہدیدار کا بیان

پریسٹیجیس چرچ کے عہدیدار ریونڈ مجید ایبل کا کہنا ہے کہ سی ٹی اے اسکول گراونڈ سیالکوٹ پریسٹیجئس چرچ کی ملکیت ہے جو صرف تعلیمی اورمذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

آج نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے یہاں سیاسی جلسہ کرنے کی کوشش کی، جس کے خلاف ہم نے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی۔

مجید ایبل نے کہا کہ مسیحی براردی اس وقت پریشانی کا شکار ہے، اس گراونڈ کوہم کسی بھی سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

اس سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ چرچ کےگراؤنڈ میں جلسےکی اجازت نہیں دی جاسکتی، پی ٹی آئی چاہےتو کسی اورگراؤنڈ میں جلسہ کرلے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف کا آج (بروز ہفتے) ہونے والا جلسہ انتظامیہ نے روک دیا تھا جبکہ انتظامیہ کہنا ہے کہ بغیر اجازت جلسہ کرنے نہیں دیا جاسکتا۔

Sialkot

Punjab police

Pakistan Tehreek e Insaf

Comments are closed on this story.