Aaj.tv Logo

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی درخواست منظور کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کالعدم قرار دے دیا، عدالتی فیصلے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیخلاف تحریک انصاف کی درخواستوں پرسماعت کی۔

لارجر بینچ میں جسٹس صداقت علی خان کے علاوہ جسٹس شہرام سرور چوہدری، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، جسٹس طارق سلیم شیخ اورجسٹس شاہد جمیل خان شامل تھے۔

جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کے حلف سے متعلق کیس کا فیصلہ سنادیا جبکہ اہم ترین فیصلہ چار، ایک کے تناسب سے سنایا گیا۔

عدالت نے تحریک انصاف کی درخواست منظور کرلی اور حمزہ شہباز کا بطور وزیر اعلیٰ پنجاب انتخاب کالعدم قرار دے دیا ۔

بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ حمزہ شہباز اب وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے جبکہ حمزہ شہباز کے وکلاء فوری طور پر عدالت سے چلے گئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

لاہور ہائیکورٹ نے 8صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، 8صفحات پر مشتمل فیصلے میں حمزہ شہباز کو عہدے سے ہٹا کر ری پول کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق گورنر پنجاب یکم جولائی کو شام 4 بجے اجلاس بلائیں گے جس میں ری کاؤنٹ ہوگا۔

فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ تمام ادارے عدالتی احکامات کی پاسداری کروائیں گے، وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل کئے بغیر اجلاس ملتوی نہیں ہوگا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گورنر آرٹیکل 130 کی شق 5 کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں گے ، گورنر پنجاب نو منتحب وزیر اعلیٰ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حلف لیں گے۔

فیصلے میں مزیدکہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب الیکشن پروسیس سے اگلے روز 11 بجے تک حلف لینے کے پابند ہوں گے،گورنر الیکشن کے کنڈنکٹ سے متعلق اپنی رائے نہیں دیں گے۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے اختلافی نوٹ لکھا اور عثمان بزدار کو کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے گورنر کو انتخاب سے متعلق مراسلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں گزشتہ روز دونوں فریقین کی جانب سے دلائل مکمل کرلئے گئے تھے جبکہ سنگل بینچ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا حلف اٹھانے کا حکم دیا تھا ۔

تحریک انصاف کے سبطین خان سمیت 17 اراکین نے فیصلے کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی جبکہ 2 رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کیلئے لارجر بینچ بنانے کی سفارش کی تھی۔

حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کالعدم قرار، پی ٹی آئی رہنماؤں کے رد عمل

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے حمزہ شہبازکا بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کےرد عمل سامنے آگئے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب میں سیاسی بحران میں مزید اضافہ کردیا ہے، حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ہے اس کے نتیجے میں بحران ختم نہیں ہوگا، اس فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے، ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اگر حمزہ وزیراعلیٰ نہیں رہا تو نگراں وزیراعلیٰ کے طور پر عثمان بزدار اپنے عہدے پر بحال ہیں،اس اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب بہت مشکل ہے،اب بھی نئے انتخابات ہی راستہ ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل نے ٹویٹ کیا کہ آج کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کےعلاوہ اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ 20سیٹوں پر ضمنی الیکشن اس لئے ہورہا ہے کہ لوگوں کو لوٹا کیا گیا، اب اگر یہ سب غلط تھا تو پھر اس اسمبلی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ،فریش الیکشن کروائیں ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں حکومت کس کی ہوگی۔

شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ پنجاب سے امپورٹڈ حکومت کے خاتمے کے بعد اگلی باری میرصادق اورمیرجعفر کی ہے ۔

پی ٹی آئی کی رہنماء شیریں مزاری نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ پنجاب میں امپورٹڈ حکومت چلی گئی ،اب بیوروکریسی اورپولیس کو بھی سیاسی معاملات میں دخل اندازی بند کردینی چاہیئے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماء مراد سعید نے لکھا کہ جعلی وزیر اعلیٰ کےتمام احکامات بھی کالعدم ہونے چائییں،اب تک دوروں، ملاقاتوں پر خرچ ہونے والا پیسہ بھی واپس لینا چاہیےاورقانونی ان کخلا ف کاروائی بھی ہونی چاہیئے۔

عدالت نے نئے الیکشن کرانے کی ہدایت کی ہے: عطاء اللہ تاڑر

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ عدالت نے نئے الیکشن کرانے کی ہدایت کی ہے، عدالت نے 25 ارکان کے ووٹ نکالنے کا حکم دیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ اسمبلی میں ہماری موجودہ تعداد 177 ہے، پی ٹی آئی اور ق لیگ کی تعداد 168 ہے، پنجاب اسمبلی میں ہمیں 9 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، موجود ارکان کی اکثریت سے انتخاب ہوگا، یقین ہے کہ ہم یہ انتخاب جیت جائیں گے۔