Aaj.tv Logo

‘بلیک آوٹ’ چلینج سے دو لڑکیوں کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ

04 جولائ 2022
<p>اس چیلنج سے آسٹریلیا، اٹلی، کولوراڈو اور اولاہوما میں کم از کم چار دیگر بچوں کی ہلاکتیں ہوئی  ہیں جن کی عمریں 10 سے 14 برس تھی۔ تصویر: ان سپلیش (فائل)</p>

اس چیلنج سے آسٹریلیا، اٹلی، کولوراڈو اور اولاہوما میں کم از کم چار دیگر بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کی عمریں 10 سے 14 برس تھی۔ تصویر: ان سپلیش (فائل)

ٹک ٹاک پر ‘بلیک آوٹ چیلنج’ کے نام سے وائرل ہونے والے ٹرینڈ پر عمل کرتے ہوئے دو لڑکیاں ہلاک ہوگئی ہیں، جس کے بعد اس سوشل میڈیا ایپ کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کے مذکورہ ٹرینڈ میں شرکا اپنا گلا دبا کر خود کو بے ہوش کرتے ہیں۔

آٹھ برس کی لالانی ایریکا والٹن اور نو سال کی آریانی جائیلین ارویو اس چیلنج کو پورا کرنے کی کوشش میں ہلاک ہوگئیں۔

ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کی کاونٹی سپیریئر کورٹ میں جمعے کو درج کیے گئے۔

مقدمے میں ٹک ٹاک پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس ایپ کے ایلگوریتھم کی وجہ سے گلا گھونٹنے کے چیلنج کی ویڈیو لڑکیوں کےسامنے آئی۔

لالانی ایریکا کا تعلق امریکی ریاست ٹیکساس سے ہے اور وہ اپنے کمرے میں بستر کے اوپر گلے میں رسی کے ساتھ پائی گئی تھی۔

پولیس نے لالانی ایریکا کا فون اور ٹبلیٹ حاصل کیا اور بعد میں اس کی سوتیلی والدہ کو بتایا کہ وہ بار بار یا ’رپیٹ پر“ بلیک آوٹ چیلنج کی ویڈیوز دیکھ رہی تھی۔

مقدمے میں مزید بتایا گیا ہے کہ آریانی جائیلین ریاست وسکانسن کے شہر ملواکی سے ہے اور وہ اپنے گھر میں ‘کتے کی لیش’ سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔

اسے ہسپتال لے جا کر وینٹیلیٹر پر رکھا گیا لیکن تب تک اس کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ ٹک ٹاک کے اس چیلنج میں حصہ لینے والے بچوں کی ہلاکت ہوئی ہو۔

دس برس کی نائلہ اینڈرسن کی بھی اس چیلنج کو پورا کرتے ہوئے ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد اس کی والدہ نے ٹک ٹاک اور اس کی ماتحت کمپنی بائیٹ ڈانس کے خلاف مئی میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

اس چیلنج سے آسٹریلیا، اٹلی، کولوراڈو اور اولاہوما میں کم از کم چار دیگر بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جن کی عمریں 10 سے 14 برس تھی۔

اخبار کے مطابق سوشل میڈیا وکٹمز لا سینٹر نامی ادارے کی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ “ٹک ٹاک کو معلوم تھا کہ جان لیوا بلیک آوٹ چیلنج اس کے ایپ کے ذریعے پھیل رہا ہے اور اس کا ایلگوریتم بچوں تک بلیک آوٹ چیلنج پہنچا رہا ہے۔”

ادارے کا مزید کہنا ہے کہ کمپنی “کو معلوم تھا یا ہونا چاہیے تھا کہ بلیک آوٹ چیلنج کو پھیلنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات لینے میں ناکامی مزید اموات کا سبب بنے گی۔”

ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے دا واشنگٹن پوسٹ کو نائلہ اینڈرسن کی ہلاکت کے مقدمے کے جواب میں بتایا کہ یہ ‘پریشان کن چیلنج’ ٹک ٹاک کا ٹرینڈ کبھی نہیں تھا اور یہ ٹک ٹاک کے پلیٹ فارم کے قیام میں آنے سے پہلے سے چلتا آرہا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ صارفین کی حفاظت کا خیال رکھتی ہے اور متعلقہ مواد کو فوری طور پر ہٹا دیتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی کے بلیک آوٹ چیلنج کا ہیش ٹیگ اپنی سیرچ انجن سے ہٹا دیا ہے۔