امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرار داد منظور، ٹرمپ کی پارٹی کے اراکین کی بغاوت
امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوران امریکی سینیٹ نے ایک انتہائی اہم قانون منظور کیا ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوج کی کسی بھی قسم کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیں۔ سینیٹ میں ہونے والی اس ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 48 ووٹ آئے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں سال 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ پر خود صدر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اندر بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
امریکی تاریخ میں 1973 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان (کانگریس) نے متفقہ طور پر ایک ایسا قانون پاس کیا ہے جو صدر کو اپنی مرضی سے جنگ کرنے سے روکتا ہے۔
یہ ووٹنگ اگرچہ علامتی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جنہیں اب تک اپنی ہی ریپبلکن پارٹی کی طرف سے اندھی حمایت حاصل تھی، مگر اب نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن کے خوف سے ان کے اپنے ساتھی بھی ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔
اس قانون کی منظوری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ حکومت اس جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے اربوں ڈالر کا نیا فنڈ مانگنے کی تیاری کر رہی ہے۔
دوسری طرف امریکی عوام بھی اس جنگ سے تنگ آ چکے ہیں، کیونکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کرنا ایک درست فیصلہ تھا، جبکہ زیادہ تر لوگ اس ڈر کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ زیادہ دن نہیں چل پائے گا۔
سینیٹ کے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ”یہ ووٹنگ انتہائی غلط وقت پر کی گئی ہے اور بالکل بے معنی ہے، ایسا کرنے والوں نے ایران کو فائدہ پہنچایا ہے اور میرا کام مزید مشکل بنا دیا ہے۔“

اس قانون کے بعد اب امریکا میں ایک آئینی بحث چھڑ گئی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ٹم کین نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اس بل کی حمایت میں کہا کہ ”ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا حق آئین نے پارلیمنٹ کو دیا ہے نہ کہ صدر کو، اور پارلیمنٹ کو اب اپنی یہ ذمہ داری خود اٹھانی ہو گی۔“
اسی طرح ایوانِ نمائندگان میں اس قانون کو پیش کرنے والے نیویارک کے نمائندے گریگوری میکس نے کہا کہ ”میرے نزدیک یہ قانون صدر پر ہر صورت لاگو ہوتا ہے اور حکومت کو اس کا پابند بنانے کے لیے ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے۔“
دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس ووٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ قانون دستخط کے لیے صدر کے پاس نہیں جائے گا، اور یہ بل صرف اس لیے پاس ہو سکا کیونکہ ہماری پارٹی کے دو ارکان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی اصل حقیقت کا فیصلہ اب عدالتوں میں ہی ہو گا۔
سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے اکثریتی لیڈر جان تھون نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر حکومت ایران کے ساتھ کوئی امن معاہدہ کرتی ہے تو پارلیمنٹ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور اس پر دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے گی۔














