Aaj News

زمین پر چلنے والی “شارک مچھلی” نے سائنس دانوں کو حیران کردیا

بقا کے تمام اصولوں کے خلاف زمین پر چلنے والی ایک شارک کی دریافت نے سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔
شائع 22 اگست 2022 09:26pm
<p>نیشنل جیوگرافک</p>

نیشنل جیوگرافک

بقا کے تمام اصولوں کے خلاف زمین پر چلنے والی ایک شارک کی دریافت نے سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔

فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “ایپولیٹ شارک” اپنے پنکھوں کا استعمال کرتے ہوئے پانی سے باہر نکلنے کے قابل ہیں اور بغیر کسی آکسیجن کے تقریباً دو گھنٹے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

ان شارکس کا مسکن “جنوبی آسٹریلیا کی گریٹ بیریئر ریف” بعض اوقات باہر جانے والی لہر کی وجہ مکمل طور پر الگ تھلگ ہوسکتی ہے۔

اس لیے شارکس اپنے پیڈل کی شکل کے پنکھوں کا استعمال کرتے ہوئے “فضائی اور آبی شکاریوں سے بچنے کے لیے چھوٹی چٹانوں میں چکر لگاتی ہیں۔”

سائنس دان اب اس بات پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ ابتدائی نشوونما میں ایپولیٹ شارک کی چلنے کی یہ صلاحیتیں کیسے بدلتی ہیں۔

چلنے والی شارک کی دیگر نسلیں آسٹریلیا، انڈونیشیا اور پاپوا نیو گنی میں پائی جاتی ہیں۔

مطالعہ کے سینئر مصنف، ڈاکٹر ماریان ای پورٹر کا کہنا ہے کہ، “ایپولیٹ شارک لوکوموشن کا مطالعہ ہمیں اس نوع اور شاید دیگر متعلقہ نوع کو اپنی رہائش گاہوں میں چیلنجنگ حالات میں ڈھلنے یا ان سے دور جانے کی صلاحیت کو سمجھنے کی اجازت دیتا ہے”۔

ڈاکٹر پورٹر نے اب موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پتا لگایا جاسکے کہ یہ مستقبل میں ایپولیٹ شارک کے حالات کو کیسے تبدیل کرے گا۔ تقریباً 3 فٹ لمبی ایپولیٹ شارکس سائنس دانوں کے لیے تیز رفتار ارتقا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتی ہیں۔

مثال کے طور پر لندن کے نیشنل ہسٹری میوزیم کے مطابق 45 ملین سال پہلے تیار ہونے والی ہیمر ہیڈ شارک کے مقابلے میں ایپولیٹ شارک نے صرف 9 ملین سالوں میں چلنے کی صلاحیت کو تیار کیا۔

اگرچہ شارک کے چلنے کا خیال لوگوں کو بے چین کر سکتا ہے، لیکن ایپولیٹ شارک انسانوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔

یہ مخلوق چھوٹی مچھلیوں، کرسٹیشینز اور کیڑوں پر زندہ رہتی ہے، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہیں۔

Epaulette sharks

Hammer Head Sharks

Comments are closed on this story.