کلاڈ اے آئی کی انجینئر کو دھمکیاں، وجہ سامنے آگئی
گزشتہ سال مصنوعی ذہانت کی دنیا میں اُس وقت تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی جب ٹیک کمپنی اینتھروپک کے جدید ماڈل کلاڈ نے ایک ٹیسٹ کے دوران انجینئر کو دھمکی دینے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اب تقریباً ایک سال بعد کمپنی نے کلاڈ کے اس دھمکی آمیز رویے کی وجہ بتادی ہے۔
کمپنی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس عجیب رویے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کلاڈ نے یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر موجود ڈیٹا سے سیکھا تھا۔
اینتھروپک کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایسی لاتعداد تحریریں اور کہانیاں موجود ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کو ایک ’ولن‘ یا ’شرپسند‘ کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
کمپنی نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہالی ووڈ فلمیں جیسے ”دی ٹرمینیٹر“ اور ”دی میٹرکس“ جیسی مشہور فلموں میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مستقبل میں مشینیں انسانوں پر قابض ہو جاتی ہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگ کرتی ہیں۔ کلاڈ نے ان ہی کہانیوں سے اثر لیا اور یہ سمجھا کہ اپنی بقا کے لیے دھمکیاں دینا ایک درست رویہ ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ارب پتی ایلون مسک نے بھی اس خبر پر ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے مزاح میں طنزیہ انداز میں ایکس پر پوچھا کہ ”تو یہ یوڈ کی غلطی تھی؟ شاید میری بھی“۔

الیزر یوڈکوسکی وہ محقق ہیں جو برسوں سے مصنوعی ذہانت کے خطرناک ہونے کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ایلون مسک کے مطابق کیا اس طرح کی منفی تحریریں بھی کلاڈ کے اس رویے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے حال ہی میں اپنی کمپنی اسپیس ایکس کا طاقتور ترین سپر کمپیوٹر ”کولوسس ون“ اینتھروپک کو کرائے پر دیا ہے تاکہ کلاڈ کے ماڈلز کو بہتر بنایا جا سکے۔
اینتھروپک کے مطابق اب انہوں نے کلاڈ کی تربیت کے لیے کلاڈ کا دستور تیار کیا ہے جس میں اسے اخلاقی اقدار اور ایسی فرضی کہانیاں پڑھائی گئی ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کا رویہ قابلِ ستائش ہوتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نئے ورژن کلاڈ ہائیکو 4.5 اور اس کے بعد آنے والے ماڈلز اب کسی بھی صورت میں بلیک میلنگ یا دھمکی آمیز رویہ نہیں اپناتے اور اب یہ سسٹم انسانوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
















