ایپل کے نئے کیمرہ والے ایئر پوڈز، اسمارٹ گلاسز کا دور ختم؟
ٹیکنالوجی کی دنیا کی مشہورکمپنی ایپل ایک ایسے انقلاب کی تیاری کر رہی ہے جو ہمارے ایئر فون استعمال کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ ایپل ایک خفیہ پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے جس کے تحت اب ایئر پوڈز میں چھوٹے کیمرے اور مصنوعی ذہانت اے آئی نصب کی جائے گی، جس کے بعد یہ ایئر پوڈز صارف کے لیے ”تیسری آنکھ“ کا کام کریں گے۔
انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، ایپل نئے ایئر پوڈز کے لانچ کے آخری مراحل میں ہے جن میں بلٹ اِن کیمرے شامل ہوں گے۔
یہ نئے ایئر پوڈز اے آئی صلاحیتوں سے بھی لیس ہوں گے اور ممکنہ طور پر ایپل کا پہلا ایسا ڈیوائس بنیں گے جو خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے دور کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ایئر پوڈز اب آخری جانچ کے مراحل میں ہیں اور ان کا موجودہ ڈیزائن اور فیچرز تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے حتمی پروڈکٹ ہوگا۔
ایپل نے پہلے یہ ایئر بڈز اس سال کے پہلے نصف میں لانچ کرنے کا پلان بنایا تھا، لیکن جنریٹیو اے آئی والی سری ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس وجہ سے لانچ کو مؤخر کرنا پڑا۔
ایپل کے ان نئے ایئر پوڈز کا ڈیزائن موجودہ ”پرو“ ماڈل جیسا ہی ہوگا، تاہم کیمروں کو جگہ دینے کے لیے ان کی ڈنڈیاں تھوڑی لمبی ہو سکتی ہیں۔
یہ کیمرے تصویریں کھینچنے یا ویڈیو ریکارڈنگ کے بجائے آپ کے ارد گرد کے ماحول کو اسکین کریں گے اور براہ راست ایپل کے ذہین اسسٹنٹ ”سری“ کو معلومات فراہم کریں گے۔
مثال کے طور پر، اگر آپ کسی انجان شہر میں گھوم رہے ہیں، تو یہ ایئر پوڈز سامنے موجود دکانوں یا سڑکوں کو دیکھ کر آپ کو راستے بتائیں گے یا کسی ہوٹل کا مینو پڑھ کر سنائیں گے۔
اسی طرح اگر آپ کچن میں موجود سامان کی طرف دیکھ رہے ہیں تو آپ سری سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان چیزوں سے کیا کھانا تیار ہو سکتا ہے؟ سری ان کیمروں کے ذریعے سامان کو دیکھ کر آپ کو مشورہ دے سکے گی۔
ایپل ان ایئر پوڈز کو اپنے مہنگے ترین ہیڈ سیٹ ”ایپل وژن پرو“ کے ساتھ بھی جوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ صارف کو ایک مکمل ڈیجیٹل دنیا کا تجربہ مل سکے۔ اس کے علاوہ ان میں ایسے خاص سینسرز بھی لگائے جا سکتے ہیں جو انسانی جسم کا درجہ حرارت نوٹ کر کے صحت کے بارے میں پل پل کی خبر دیں گے۔
ایپل کے لیے سب سے بڑا چیلنج پرائیویسی ہے۔ لوگ عام طور پر ایئر پوڈز لگا کر ہر جگہ جاتے ہیں اور دوسروں کو یہ علم نہیں ہوگا کہ کوئی انہیں ”دیکھ“ رہا ہے۔ اسی لیے ایپل ایک ایسی لائٹ پر کام کر رہا ہے جو کیمرہ آن ہوتے ہی جلے گی، لیکن چونکہ ایئر پوڈز بہت چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ لائٹ دور سے نظر آ سکے گی یا نہیں۔
اگر ہم ان کا مقابلہ فیس بک کی کمپنی میٹا کے اسمارٹ چشموں سے کریں تو ان میں سب سے بڑا فرق ڈیزائن کا ہے۔ میٹا کے چشمے آنکھوں پر پہنے جاتے ہیں جبکہ ایپل کے یہ ایئر پوڈز کانوں میں لگائے جائیں گے۔
میٹا کے چشموں میں ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویریں لینے کی سہولت موجود ہے جو شاید ایپل کے ان ایئر پوڈز میں نہ ہو۔ تاہم دونوں ہی چیزیں آواز کے ذریعے پیغام بھیجنے، فون کالز کرنے، راستوں کی نشاندہی اور ترجمہ کرنے جیسی خصوصیات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گی۔
دوسری جانب، میٹا کے اسمارٹ چشموں کے مقابلے میں ایپل کے ایئر پوڈز کو یہ برتری حاصل ہوگی کہ لوگ چشمے کے مقابلے میں ایئر پوڈز زیادہ دیر تک پہنے رکھتے ہیں۔ تاہم، عوامی مقامات پر پرائیویسی کے حوالے سے کچھ خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
مختصر یہ کہ ایپل ایک ایسا مستقبل تیار کر رہا ہے جہاں آپ کا اسمارٹ فون آپ کی جیب میں ہوگا اور آپ کے ایئر پوڈز آپ کو دنیا دکھا رہے ہوں گے۔
















