Aaj News

4 نومبر کا ہدف اور عمران کا خفیہ پلان

کپتان نے پہلے ہی اشارہ دے دیا تھا کہ قریبی ساتھی سیف اللہ نیازی اور چند دیگر کو انہوں نے انڈر گراونڈ کردیا ہے
شائع 31 اکتوبر 2022 09:12pm
<p>سلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔ فوٹو — فائل</p>

سلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔ فوٹو — فائل

سب کی نظرین جی ٹی روڈ پر ہیں، کپتان اور انکے چند روپوش ساتھی 4 نومبر کے بڑے پاور شو کی تیاری میں مصروف ہیں جس کے بارے چیئرمین عمران خان بار بار کہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی احتجاج ہوگا۔ وہ دعوٰی کررہے ہیں کہ اسلام آباد کے آخری شو میں 10 لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔

28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہونے والا لانگ مارچ بڑا ہی بھرپور اور پر رونق ضرور ہے مگر ویسا نہیں ہے جس کی تجزیہ کار یا نقاد توقع کررہے تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعداد کے لحاظ سے یہ لانگ مارچ ناکام ہوگیا ہے بلکہ اس کی موجودہ رفتار اور تعداد عمران خان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

عمران نے یہ خفیہ حکمت عملی 25 مئی کے احتجاج کے نتائج کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی ہے۔ کپتان نے لاہور پڑاو ڈالنے سے پہلے بنی گالہ میں اپنی پریس کانفرنس میں اشارہ دے دیا تھا کہ قریبی ساتھی سیف اللہ نیازی اور چند دیگر کو انہوں نے انڈر گراونڈ کردیا ہے تاکہ وہ ان کے خفیہ پلان پر کام کرتے رہیں اور گرفتاری سے بچ سکیں۔

ذرائع کے مطابق عمران خان پنجاب میں اتحادی چوہدری پرویز الہی کی حکومت ہونے کے باوجود ان پر مکمل اعتبار نہیں کرسکتے، اس لئے انہوں نے وسطی پنجاب کے کارکنوں کو حقیقی آزادی مارچ کے لئے فعال رکھنے کی خاطر خود ہی یہاں پڑاو ڈالا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کی قیادت اور کارکنوں پر انہیں اعتماد ہے اس لئے وہ طے شدہ حکمت عملی کے تحت تین نومبر کو اسلام آباد کے قریب پہنچیں گے۔ عمران خان نے ملک بھرکے دیگر اضلاع کی مقامی قیادت کو چار نومبر سے پہلے توانیاں ضائع کرنے کی بجائے چار نومبر کو قیام و طعام کے مکمل انتظامات کے ساتھ آنے کا کہ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے قافلے بھی چار نومبر کے شیڈول کو مدنظر رکھ کر روانہ ہورہے ہیں۔

عمران خان کو معلوم ہے کہ وہ غیر معمولی تعداد کے بغیر اپنے مطالبات نہیں منوا سکتے، اس لئے انہوں نے حکومت اور تمام طاقتوں کی توجہ جی ٹی روڈ کی طرف مبذول کرا رکھی ہے اور وہ چار نومبر سے ایک دو روز قبل اسلام آباد پہنچے کی کال دیں گے۔

چار نومبر کی صبح اسلام آباد کے قریب صوبوں کے بارڈر پر قافلوں کا انتظار کیا جائے گا اور پھر ایک طاقت کےساتھ اسلام آباد میں داخل ہوا جائے گا۔

اگر عوامی ہجوم غیر معمولی ہوا تو کپتان کو توقع ہے کہ ان کے مطالبات اسلام آباد داخل ہونے سے پہلے ہی تسلیم کرلئے جائیں گے ورنہ اسلام آباد میں پاؤر شو سب کے لئے امتحان ثابت ہوگا۔

imran khan

PTI long march 2022

Comments are closed on this story.

مقبول ترین