Aaj News

آسکر کیلئے نامزد ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایتیں ، وزیر اعظم نے کمیٹی بنا دی

سیاسی شخصیات بھی فلم کےحق میں آواز اٹھانے میں پیش پیش
شائع 15 نومبر 2022 10:55am

وزیراعظم شہبازشریف نے آسکرکے لیے نامزد کی جانے والی فلم ’جوائے لینڈ‘ کیخلاف شکایات کی تحقیقات اورپاکستان میں نمائش پرپابندی سے متعلق مطالبے کا جائزہ لینے کیلئےاعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی۔

کمیٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد سمیت دیگرحلقوں سے کیے جانے والے مطالبے کا جائزہ لے گی کہ آیا یہ فلم واقعی اخلاقی ومعاشرتی اقدار سے متصادم ہے یا نہیں۔

جوائے لینڈ کو مئی 2022 میں دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانزمیں ’کانز:کوئیر پام‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بالخصوص ہم جنس پرستوں یا پھر مخنث افراد پرمبنی فلموں کو دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں اس فلم کی ریلیز 18 نومبرکے لیے شیڈول تھی تاہم اس سے قبل ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے موضوع کی بنیاد پر فلم پرپابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسی فلموں کے ذریعے پاکستان کے معاشرتی اقدار پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب سینسربورڈ کی جانب سے فلم کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا تاہم 11نومبرکو وفاقی وزارت اطلاعات نے اسے یہ کہتے ہوئے منسوخ کر دیاکہ فلممیں ’قابل اعتراض مواد‘ موجود ہے۔

اب وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے اپنے آفیشل ٹوئٹرہینڈل پربتایا ہے کہ جوائےلینڈ کی نمائش پرپابندی کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو متعلقہ شکایات کے علاوہ پاکستان میں نمائش کے میرٹس کا بھی جائزہ لے گی۔

وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق فلم کیخلاف شکایات موصول ہونے کے بعد وزیر قانون کی نگرانی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب ، چیئرمین پی ٹی اے اور پیمرا، وزراء برائے کمیونیکیشن، سرمایہ کاری، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اوروزیر اعظم کے مشیربرائے امور گلگت بلتستان شامل ہوں گے۔

ممکنہ طور پرکمیٹی اپنی سفارشات آج 15 نومبرکوپیش کرے گی۔

فلم کی ریلیز کی اجازت ملنے کے بعد جوائے لینڈ کے ڈائریکٹرصائم صادق وزارت اطلاعات کے اس اقدام کوغیرقانونی قراردے رہے ہیں۔

اس اقدام پرشوبزسمیت کئی معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پرتنقید کرتے ہوئے حکومت سے فلم پرپابندی عائد نہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔

اداکارہ میراسیٹھی نے مریم اورنگزیب کیلئے لکھا کہ ، ’فلم پرپابندی کا کوئی جوازنہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ خود کوجمہوریت پسند قراردیں اورآرٹ پرپابندی عائد کردیں‘۔

ہمایوں سعید نے کہا کہ جوائے لینڈ نےکانزمیں ایوارڈ جیت کرہمارا سر فخرسے بلند کیا، یہ ہمارے اپنے لوگوں کی کہانی ہے ، امید ہے کہ فلم دیکھنے کو ملے گی۔

اداکارہ نادیہ جمیل نے بھی سوال اٹھایا کہ، ’اس پابندی کے پس پردہ کون سے چہرے ہیں اور وہ کس بات سےخوفزدہ ہیں، کب تک منافقین پاکستان کا گلا گھونٹتے رہیں گے جوخود مغربی دنیا کے تمام فائدے حاصل کرتے ہیں لیکن دوسروں پرزمانۂ جاہلیت کےنظریات مسلط کرتے ہیں‘۔

خود وزیراعظم شہبازشریف کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے سربراہ سلمان صوفی نے بھی ٹویٹ میں مریم اورنگزیب سے اس پابندی پرنظرثانی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہو تو فلم کی ٹیم سے ملاقات کرلیں۔

سیاسی شخصیات بھی فلم کے حق میں آواز اٹھانے میں پیش پیش رہیں۔

حال ہی میں مستعفی ہونے والئے سابقہ پی پی سینیٹرمصطفیٰ نوازکھوکھرنے کہا کہ،’ایک فلم ہماری اقدارکوکیسے خطرے میں ڈال سکتی ہے، آخر90 فیصد سے زائدمسلمانوں کے ملک میں ہی اسلام کو کیوں خطرہ درپیش رہتا ہے‘۔

اس پرردعمل میں سابق وزیراطلاعات اور پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایسے معاملات کو کاروباری مخاصمت قراردیتے ہوئے لکھا کہ ، ’کمزور وزیرہو تو دباؤمیں آجاتا ہے‘۔

پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی فلم پر پابندی کو ’اخلاقی پولیس‘ کو خوش کرنا قراردیا۔

ہدایت کار صائم صادق کی اس فلم کی کاسٹ میں سرمد کھوسٹ، ثروت گیلانی، علینا خان، سہیل سمیر، سلمان پیر، ثانیہ سعید، کنول کھوسٹ، زویا احسن، ثنا جعفری اور قاسم عباس سمیت دیگر اداکار شامل ہیں۔

Shehbaz Sharif

oscar

joyland

Saim sadiq

Comments are closed on this story.

مقبول ترین