Aaj News

نااہل ”قومی حکومت“ سے باہر ہیں، مولانا فضل الرحمان

'عمارت گرانے والوں کو بھی عمارت کی تعمیر میں شامل کیا جاسکتا ہے؟َ'
شائع 24 نومبر 2022 04:01pm
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آج ایک قومی حکومت قائم ہے اور نااہل حکومت سے باہرہیں۔

لوئر دیر میں شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا قاضی عبدالسلام کی یاد منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ”ملکی معیشت اس وقت بیٹھ چکی ہے، کہا جاتا ہے ایک پارٹی ملکی معیشت کو ٹھیک نہیں کر سکتی، پھر تجویز دی جاتی ہے کہ قومی حکومت بن جائے، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں بصد احترام کہ پاکستان میں قومی حکومت قائم ہے۔“

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ”آج وفاق میں جو حکومت ہے وہ ایک قومی حکومت ہے، ہاں ، وہی پارٹی اس قومی حکومت سے باہر ہے جو اس ملک کی معیشیت کی تباہی کی ذمہ دار ہے، نا اہل باہر ہیں، اگر وہ اہل ہوتے تو ہم ضرورت محسوس کرتے کہ ان کو بھی ہونا چاہئیے، تباہ کرنے والوں کو بھی ، عمارت گرانے والوں کو بھی عمارت کی تعمیر میں شامل کیا جاسکتا ہے؟َاگر وطن عزیز میں انسانی حقوق کو بہتر کرنا ہے تو دین اسلام کے علاوہ کوئی رہنما نظام نہیں۔“

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں ہونے دیا گیا، 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کے دوران معاشی عدم استحکام پیدا ہوا، ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے پی ڈی ایم بنائی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت میں معاشی طور پر ملک کو دیوالیہ کردیا تھا، ہم نے ملک کی معاشی ڈوبتی کشتی کو سہارا دیا، چھ مہینے کے اندر ہم پاکستان کو وائٹ لسٹ میں لے آئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی بقا کے لیے دفاعی قوت ہوتی ہے جس کو بھی متنازع کیا جارہا ہے، ہم نے تمام سازشیں ناکام بنادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ حکومت سے منوایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے بعد حکومتی بنکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ شرعی عدالت کے فیصلے کو واپس لیں گی۔

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ہم سودی معیشت کے خلاف علماء اور تاجروں کا سیمینار 30 نومبر کو منعقد کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ علماء کرام کی جدوجہد کی وجہ سے پاکستان آئینی طور اسلامی جمہوریہ ہے، آئین واضح کرتا ہے کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تحت ہوگی۔

Molana Fazal ur Rehman

تبصرے
1000 حروف
مقبول ترین