فرانسیسی حکومت صارفین کے موبائل فون کیمرے اور مائیک سے جاسوسی کرے گی، قانون منظور
فرانسیسی سینیٹ نے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی مشتبہ شخص کے ڈیوائسز کے کیمرے اور مائیکروفون کو خفیہ طور پر ایکٹیو کرنے کی اجازت دے گا۔
یعنی ڈیوائسز (موبائل فونز، ٹیبلیٹس وغیرہ) کے مالک کو مطلع کیے بغیر اس کے کیمرے اور مائیکروفونز اس کی جاسوسی کیلئے چالو کر دیے جائیں گے۔
اسی شق سے ایجنسیوں کو مشتبہ مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے جغرافیائی محل وقوع کے ڈیٹا تک آسانی سے رسائی بھی حاصل ہو گی۔
اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ”کیپر آف دی سیلز“ نامی جسٹس بل کی اس نئی اپ ڈیٹ کا استعمال صرف مجرموں اور دہشت گردی میں ملوث مشتبہ افراد کی آواز اور تصاویر حاصل کرنے کے لیے کریں گے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پھر بھی نامناسب ہوگا۔
صرف سیاستدان ہی نہیں شہری حقوق کے حامی اور تنظیمیں بھی اس پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق اور آزادیوں کو فروغ دینے والے ایک اور فرانسیسی ایڈوکیسی گروپ La Quadrature du Net نے رازداری کو لاحق خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق، تفتیش کاروں کو نظریاتی طور پر تمام منسلک آلات، جیسے ٹیلی ویژن یا بیبی مانیٹر کو دور سے فعال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
گروپ نے ایک پریس ریلیز میں متنبہ کیا کہ اگر اس متن کو یقینی طور پر اپنایا گیا تو یہ ہمارے تمام آئی ٹی ٹولز کو ممکنہ جاسوسوں میں تبدیل کرکے پولیس کی مداخلت کے امکانات کو خطرناک حد تک بڑھا دے گا۔
ناقدین فرانسیسی پارلیمنٹیرینز پر زور دے رہے ہیں کہ وہ متنازع دفعات کو مسترد کر دیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، بل کی اپ ڈیٹ کو ابھی بھی قومی اسمبلی سے منظور ہونا ضروری ہے، جو کہ زیادہ طاقتور ایوان زیریں ہے۔
وزیر انصاف ایرک ڈوپونڈ مورٹی اس حوالے سے دلیل دیتے ہیں کہ تمام ضروری حفاظتی اقدامات موجود ہیں، مثال کے طور پر، ہر نگرانی کے آپریشن کی منظوری جج سے لینی ہوگی۔
2015 کے دہشت گردانہ حملوں میں فرانس کے دہل جانے کے بعد ملک نے نگرانی کے ریاستی اختیارات میں اضافہ کیا ہے، اور ”کیپر آف دی سیل“ بل کو بدنام زمانہ امریکی پیٹریاٹ ایکٹ سے تشبیہ دی گئی ہے۔
کسی مشتبہ شخص کے آلے پر کیمرے اور مائیکروفون کو چالو کرنے کی شاید ابھی اجازت نہ ہو۔
لیکن فرانسیسی قانون حکومت کو وارنٹ حاصل کیے بغیر دہشت گردی کے مشتبہ افراد کی فون کالز اور ای میلز کی نگرانی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔