برطانیہ: مسجد میں مردوں کی ورزش کلاس کی ویڈیو وائرل، انتظامیہ حیران
برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں واقع جامعہ عثمانیہ مسجد میں مردوں کی پیلیٹس کلاس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جسے اب تک دو ملین سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔ مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو کی عالمی سطح پر مقبولیت غیر متوقع ہے جبکہ کلاسز میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
بریڈفورڈ کی ہیٹن روڈ پر واقع جامعہ عثمانیہ مسجد میں ہر جمعرات کو 50 سال سے زائد عمر کے مردوں کے لیے پیلیٹس کلاسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
مسجد کے سیکریٹری محمد الیاس کے مطابق یہ کلاسیں بزرگ مردوں کی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے لیے شروع کی گئی تھیں، جبکہ آئندہ خواتین کے لیے بھی ایسی سرگرمیوں کے آغاز کا ارادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کلاسوں کی مقبولیت کے باعث اب شرکت کرنے والوں کی تعداد محدود کرنا پڑ رہی ہے۔ محمد الیاس نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر معمولی ردعمل نے انہیں بھی حیران کر دیا۔
ان کے مطابق ’ہم واقعی حیران ہیں، ویڈیو دنیا بھر میں دیکھی جا رہی ہے، صرف ٹک ٹاک پر دو ملین کے قریب ویوز آئے ہیں، اور فیس بک پر بھی بہت زیادہ دیکھا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف ممالک سے لوگوں نے رابطہ کرکے دریافت کیا کہ وہ اپنی مساجد میں بھی ایسی ہی سرگرمیاں کیسے شروع کر سکتے ہیں۔
کلاسز کے انسٹرکٹر زارا قیانی کا کہنا ہے کہ وہ بزرگ افراد کے لیے صحت بہتر بنانے پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کم عمر مرد زیادہ تر باڈی بلڈنگ اور جسمانی ساخت پر توجہ دیتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے افراد کے لیے ایسے مواقع کم ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیلیٹس کلاسیں لچک میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی اور روحانی طور پر بھی فائدہ دیتی ہیں، اور یہ مردوں کے لیے ایک ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے اور خوشگوار ماحول میں وقت گزارنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
مسجد انتظامیہ کے مطابق کسی طرح کی تشہیر کیے بغیر صرف “بات سے بات” پھیلنے پر شرکاء کی تعداد سات سے بڑھ کر 25 تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث اب کچھ کلاسوں میں داخلہ محدود کرنا پڑ رہا ہے۔
کلاس میں شریک 62 سالہ عابد خان، جو گزشتہ سال دل کی پیوندکاری سے گزرے تھے، نے بتایا کہ انہیں اس سرگرمی سے جسمانی اور جذباتی دونوں طرح فائدہ پہنچا ہے۔
اسی طرح 60 سالہ حبیب رحمن نے کہا کہ وہ سائیٹیکا اور کمر درد میں مبتلا تھے اور اس کلاس نے انہیں بہت مدد دی ہے۔
محمد الیاس کے مطابق کلاس کے بعد شرکاء چائے، پھل اور بسکٹ کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو بھی کرتے ہیں، جو سماجی طور پر انہیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
’گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھنے کی بجائے یہ ایک گھنٹہ ورزش ان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا ایک مقصد مسجد کو کمیونٹی سینٹر کی شکل دینا بھی ہے، تاکہ صرف نماز ہی نہیں بلکہ معاشرتی سرگرمیوں کے لیے بھی لوگ مسجد کا رخ کریں۔
محمد الیاس کے مطابق مسجد انتظامیہ ایک نیا عمارت منصوبہ بھی تیار کر رہی ہے، جہاں مستقبل میں خواتین کے لیے بھی کلاسیں اور دیگر سرگرمیاں شروع کی جا سکیں گی۔















