امریکا کی وینزویلا پر بمباری: روس، ایران، کیوبا اور کولمبیا کا سخت ردِعمل
وینزویلا کے فوجی اڈوں اور وزارتِ دفاع پر امریکی بمباری کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف ممالک نے ان حملوں کو وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
روس نے امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت انتہائی تشویشناک ہے اور ان اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لیے پیش کیے گئے جواز بے بنیاد ہیں۔
روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق مزید کشیدگی کو روکا جانا چاہیے اور مسائل کا حل صرف بات چیت اور مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔ روس نے مصالحت کے عمل میں تعاون کی پیشکش بھی کی ہے اور کہا ہے کہ لاطینی امریکا کو ایک پُرامن خطہ رہنا چاہیے۔
روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کی اپیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وینزویلا حکام اور وہاں موجود روسی شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم کسی روسی شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ایران، کیوبا اور کولمبیا نے بھی مشترکہ طور پر وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی حملے وینزویلا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے اور یہ ایسے عناصر کے زیرِ اثر ہے جو سفارت کاری سے خوفزدہ ہیں۔
کولمبیا نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جا سکے۔
کیوبا نے امریکی حملوں کو مجرمانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جارحیت کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
عالمی برادری کی جانب سے اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ وینزویلا کی موجودہ صورتحال کو مزید بگاڑنے کے بجائے سفارتی ذرائع اور مکالمے کے ذریعے حل تلاش کیا جائے۔













