امریکہ کی وینزویلا میں گھس کر صدر کی گرفتاری کیا قانونی حیثیت رکھتی ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ اور گینگ وائلنس عام جرائم کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ اتنا سنگین معاملہ نہیں
شائع 04 جنوری 2026 09:19am

امریکہ نے ہفتے کی علی الصبح ایک فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا جس پر بعض عالمی رہنماؤں کی طرف سے شدید مذمت بھی کی گئی۔

امریکی حکام کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکہ کے شہر نیویارک پہنچا دیا گیا ہے جہاں انہیں فوجداری الزامات کا سامنا کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ مسلسل مادورو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور ان پر منشیات کے کارٹلز کی حمایت کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے دہشت گرد گروہوں کے طور پر نامزد کر رکھا ہے۔ امریکہ الزام عائد کرتا ہے یہ گروہ غیر قانونی منشیات کے استعمال سے جڑی ہزاروں امریکی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہے۔

ستمبر کے بعد سے امریکی افواج نے کیریبین اور بحرالکاہل میں وینزویلا سے تعلق رکھنے والی مبینہ منشیات اسمگلنگ کی کشتیوں پر کم از کم 30 حملے کیے، جن میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر امریکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ انصاف نے مادورو کی گرفتاری کے لیے فوجی معاونت طلب کی تھی۔ مادورو پر نیویارک کی ایک گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی، جس میں ان کی اہلیہ، بیٹا، دو سیاسی رہنما اور ایک مبینہ بین الاقوامی گینگ لیڈر بھی شامل تھے۔ ان پر دہشت گردی، منشیات اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ ملزمان جلد ہی امریکی سرزمین پر امریکی عدالتوں میں امریکی انصاف کے مکمل غضب کا سامنا کریں گے۔

تاہم ایک پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے الزام لگایا تھا کہ وینزویلا نے امریکہ کے تیل کے مفادات چرائے ہیں جنہیں واشنگٹن واپس لے گا اور کچھ عرصہ وینزویلا کو چلانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے قانونی معاملات کو مزید الجھا دیا ہے کیونکہ ایک جانب اس کارروائی کو مخصوص قانون نافذ کرنے کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اسے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر طویل المدتی کنٹرول کی تمہید بھی بتایا جا رہا ہے۔

نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے آئینی قانون کے ماہر پروفیسر جیریمی پال نے کہا ہے کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک قانون نافذ کرنے کی کارروائی تھی اور پھر یہ بھی کہہ دیں کہ اب ہمیں اس ملک کو چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل بے معنی بات ہے۔

امریکی کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم صدر بطور کمانڈر ان چیف محدود نوعیت کی اور قومی مفاد میں سمجھی جانے والی فوجی کارروائیوں کا جواز پیش کرتے رہے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے گزشتہ برس کے اختتام میں شائع ہونے والے وینٹی فیئر میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ٹرمپ وینزویلا میں زمین پر کسی سرگرمی کی اجازت دیتے ہیں تو اس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ہفتے کی کارروائی سے قبل کانگریس کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

بین الاقوامی قانون کے تحت عالمی تعلقات میں طاقت کے استعمال پر پابندی ہے، سوائے چند محدود استثنائی صورتوں کے، جیسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت یا اپنے دفاع میں کارروائی۔

قانونی ماہرین کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ اور گینگ کی جانب سے کیا جانے والا تشدد عام جرائم کے زمرے میں آتا ہے، اور یہ اتنا بڑا یا سنگین معاملہ نہیں سمجھا جاتا کہ اس کی بنیاد پر کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کو جائز قرار دیا جا سکے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے قومی سلامتی قانون کے ماہر پروفیسر میتھیو ویکس مین نے کہا کہ صرف ایک فرد جرم کسی غیر ملکی حکومت کو ہٹانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کا اختیار فراہم نہیں کرتی، اور غالب امکان ہے کہ انتظامیہ اسے بھی اپنے دفاع کے نظریے کے تحت پیش کرے گی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون میں مؤثر نفاذ کے نظام کی کمی کے باعث یہ بعید ہے کہ امریکہ کو وینزویلا میں اپنی کارروائی پر کسی ٹھوس احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا، چاہے یہ کارروائی غیر قانونی ہی کیوں نہ ہو۔

امریکہ 2019 سے نکولس مادورو کو وینزویلا کا جائز لیڈر تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ امریکہ کا دعویٰ ہے مادورو نے انتخابات میں دھاندلی کی تھی۔

کیا اس کی کوئی مثال موجود ہے؟

رائٹرز کے مطابق امریکہ اس سے قبل بھی لیبیا سمیت دیگر ممالک میں مجرمانہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکا ہے، تاہم ان معاملات میں مقامی حکام کی رضامندی حاصل کی گئی تھی۔

اگرچہ امریکی انتظامیہ مادورو کو غیر قانونی رہنما قرار دیتی ہے، لیکن واشنگٹن نے کسی اور وینزویلا رہنما کو تسلیم نہیں کیا جو مادورو کی گرفتاری کی اجازت دے سکتا۔

1989 میں امریکہ نے پاناما کے اس وقت کے لیڈر جنرل مانوئل نوریگا کو اسی طرح کے حالات میں گرفتار کیا تھا۔ نوریگا پر منشیات سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے اور واشنگٹن نے کہا تھا کہ وہ پانامہ کی افواج کی جانب سے ایک امریکی فوجی کے قتل کے بعد امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

امریکہ نے اس وقت بھی نوریگا کو غیر قانونی رہنما قرار دیا تھا اور اُس امیدوار کو پاناما کا رہنما تسلیم کیا تھا جس کے بارے میں نوریگا نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حالیہ انتخاب میں اسے شکست دے چکے ہیں۔

ہونڈوراس کے سابق صدر خوان اورلینڈو ہرنانڈیز کو 2022 میں امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دے کر 45 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم ٹرمپ نے دسمبر میں ہرنانڈیز کو معاف کر دیا تھا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون میں مؤثر نفاذ کے نظام کی کمی کے باعث یہ بعید ہے کہ امریکہ کو وینزویلا میں اپنی کارروائی پر کسی ٹھوس احتساب کا سامنا کرنا پڑے، چاہے یہ کارروائی غیر قانونی ہی کیوں نہ ہو۔

VENEZUELA

President Donald Trump

Nicholas Maduro

US Attack Venezuela

US Raid in Venezuela

US capture