امریکی آپریشن اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر: ’فائدہ فوراً ممکن نہیں‘
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیل کی صنعت کی بحالی کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تمام تر وعدوں کے باوجود وینزویلا میں خام تیل کی پیداوار میں آئندہ کئی برسوں تک کسی نمایاں اضافے کا امکان نہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کا حامل ملک ہے، جہاں عالمی ذخائر کا تقریباً 17 فیصد موجود ہے۔ اس کے باوجود بدانتظامی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث گزشتہ دہائیوں میں تیل کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی۔
یہ صورتحال خاص طور پر اس وقت پیدا ہوئی جب وینزویلا نے 2000 کی دہائی میں تیل کے شعبے کو قومی تحویل میں لے لیا، جس میں ایکسن موبل اور کونیکو فلپس کے اثاثے بھی شامل تھے۔
رائٹرز سے گفتگو میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں سرمایہ کاری کے خواہشمند اداروں کو سیکیورٹی خدشات، بوسیدہ انفرااسٹرکچر، مادورو کی گرفتاری سے متعلق امریکی کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوالات اور طویل المدتی سیاسی عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سی ایچ آر آئی ایس ویل کنسلٹنگ کے بزنس ڈیولپمنٹ ڈائریکٹر مارک کرسچین کے مطابق امریکی کمپنیاں اس وقت تک وینزویلا نہیں جائیں گی جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ انہیں ادائیگیاں ہوں گی اور کم از کم بنیادی سطح کی سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک وینزویلا پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، امریکی کمپنیاں واپسی کا فیصلہ نہیں کریں گی۔ اس کے علاوہ وینزویلا کو غیر ملکی تیل کمپنیوں کی بڑی سرمایہ کاری کی اجازت دینے کے لیے اپنے قوانین میں اصلاحات بھی کرنا ہوں گی۔
وینزویلا نے 1970 کی دہائی میں تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لیا تھا، جبکہ 2000 کی دہائی میں غیر ملکی کمپنیوں کو سرکاری آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے زیر کنٹرول مشترکہ منصوبوں میں منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔ کئی کمپنیوں، جن میں شیوران بھی شامل تھی، نے مذاکرات کے بعد ملک سے اخراج یا منتقلی کا راستہ اختیار کیا، تاہم چند کمپنیوں نے معاہدہ نہ ہونے پر ثالثی عدالتوں سے رجوع کیا۔
توانائی اور جغرافیائی سیاست کے ماہر تھامس اوڈونل نے بتایا کہ اگر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کم مزاحمت کے ساتھ ایک پُرامن سیاسی تبدیلی لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پانچ سے سات سال میں تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جب انفرااسٹرکچر کی مرمت اور سرمایہ کاری کے معاملات طے پا جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں پیدا ہونے والا بھاری خام تیل امریکہ کی گلف کوسٹ ریفائنریوں کے لیے موزوں ہے اور اسے فریکنگ سسٹم کے ذریعے حاصل ہونے والے ہلکے تیل کے ساتھ ملا کر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فریکنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بہت زیادہ دباؤ کے ساتھ زیرِ زمین گہرے سوراخوں کے ذریعے باریک ذرات پر مشتمل پتھروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس دباؤ سے پتھر ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے اندر موجود تیل اور گیس باہر نکل آتے ہیں، جنہیں بعد میں نکال لیا جاتا ہے۔
تاہم تھامس اوڈونل کے مطابق یہ سب کچھ اسی صورت ممکن ہے جب ہر چیز درست سمت میں جائے، جبکہ ایسا نہ ہونے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہیں۔
اوڈونل نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی تبدیلی ناقص انداز میں ہوئی اور اس پر امریکی بالادستی کا تاثر غالب رہا تو اس کے نتیجے میں مزاحمت جنم لے سکتی ہے، کیونکہ ملک میں مسلح شہری گروہ اور گوریلا تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔
رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹیٹیوٹ میں لاطینی امریکہ انرجی پروگرام کے ڈائریکٹر فرانسسکو مونالڈی کے مطابق اگر وینزویلا میں تیل کے شعبے کو دوبارہ کھولا گیا تو امریکی تیل کمپنی شیوران اس سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے کی پوزیشن حاصل ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر امریکی تیل کمپنیاں سیاسی استحکام پر گہری نظر رکھیں گی اور یہ دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ کریں گی کہ آپریشنل ماحول اور معاہداتی فریم ورک کس طرح تشکیل پاتا ہے۔
واضح رہے کہ وینزویلا، ایران، عراق، کویت اور سعودی عرب کے ساتھ اوپیک کا بانی رکن ہے۔ 1970 کی دہائی میں وینزویلا یومیہ 35 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جو اس وقت عالمی پیداوار کا 7 فیصد سے زائد تھا۔ بعد ازاں 2010 کی دہائی میں پیداوار 20 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی کم ہو گئی، جبکہ گزشتہ سال اوسط پیداوار تقریباً 11 لاکھ بیرل یومیہ رہی، جو عالمی پیداوار کا محض ایک فیصد بنتی ہے۔














