امریکی اخبارات کو وینزویلا پر چھاپے کا علم تھا لیکن خاموش رہے: رپورٹ میں دعویٰ
ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’نیویارک ٹائمز‘ اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کو جمعے کی رات وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس پر ہونے والے خفیہ امریکی چھاپے کی پیشگی اطلاع ملی تھی، مگر دونوں اخبارات نے امریکی فوج کے تحفظ کے لیے خبر جاری کرنے میں جان بوجھ کر تاخیر کی۔ یہ دعویٰ امریکی نیوز ویب سائٹ سیمافور نے اپنی تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیو یارک اور واشنگٹن کے نیوز رومز نے وینزویلا پر امریکی آپریشن کی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ امریکی صحافتی روایت کے مطابق کیا، جو امریکی صدر اور پُرانے میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود قومی سلامتی کے حساس معاملات پر بعض اوقات تعاون کی مثال پیش کرتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اُن کی انتظامیہ نے ہفتے کو وینزویلا کے موجودہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی گرفتاری کو شاندار کامیابی قرار دیا، جس کی منظوری جمعے کی رات دس بج کر 46 منٹ پر دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے اس آپریشن کی کامیابی میں کسی امریکی جانی نقصان کے نہ ہونے اور مکمل راز داری کو اہم کامیابی قرار دیا۔
پینٹاگون کے چیف پیٹ ہیگسیٹھ کا کہنا تھا کہ ہم آہنگی، خفیہ کارروائی، درستگی اور امریکی انصاف کی لمبی پہنچ سب رات کے وسط میں دیکھنے کو ملی۔
تاہم ہیگسیٹھ نے اس راز داری کے ایک پہلو کا ذکر نہیں کیا جس میں خبر رساں اداروں نے انتظامیہ کی انتباہ کے بعد بھی اپنی رپورٹ عارضی طور پر روک رکھی تھی تاکہ آپریشن میں موجود امریکی فوجی خطرے میں نہ آئیں۔
وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور واشنگٹن پوسٹ کے ترجمان جمعے کی رات صحافیوں اور اہلکاروں کے درمیان رابطوں پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکے، جبکہ نیو یارک ٹائمز کے ترجمان نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں دیا تھا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ سیمافور کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کے طویل عرصے سے بعض امریکی میڈیا اداروں کے ساتھ اختلافات رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کئی بڑے امریکی خبر رساں اداروں نے وینزویلا آپریشن کی خبر عارضی طور پر روک کر امریکی فوجی آپریشنز کی خفیہ نوعیت کا احترام کیا۔ تاریخی طور پر بھی امریکی اخبارات نے خفیہ فوجی آپریشنز کے معاملے میں وائٹ ہاؤس کی ہدایات کو مدنظر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کئی ماہ سے مادورو پر تنقید کرتے ہوئے امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد صدر ٹرمپ کا بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 63 سالہ رہنما کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب ہم وینزویلا کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک محفوظ، مناسب اور عدالتی عبوری انتظام ممکن نہ ہو جائے۔
رپورٹ کے مطابق مادورو، ان کی اہلیہ، بیٹے اور تین دیگر افراد پر مقدمہ درج ہے۔ مادورو پر نارکو-ٹیرر ازم کی سازش، کوکین کی درآمد کی سازش، مشین گن اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کا الزام کا شامل ہے۔
تاہم وینزویلا نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد اس وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔














