بنگلا دیش اور بھارتی کرکٹ بورڈز کے درمیان تنازع کیا ہے؟

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تنازع کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟
شائع 07 جنوری 2026 02:50pm
علامتی تصویر (اے آئی)
علامتی تصویر (اے آئی)

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ شروع ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، لیکن بنگلا دیش اور بھارت کے کرکٹ بورڈز کے درمیان ایک سنگین تنازع کے جنم لینے سے معاملات پیچیدہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے کے لیے تیار نہیں، اور اس فیصلے کی بنیادی وجہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی سلامتی سے متعلق خدشات کو بتایا گیا ہے۔

بنگلا دیش نے ان خدشات سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اس کے تمام میچز بھارت کے بجائے کسی دوسرے ملک میں منتقل کیے جائیں۔

بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ حکومت کے مشورے اور مجموعی حالات کے جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ صورتِحال آئی سی سی کے لیے ایک بڑا انتظامی اور سفارتی چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ بھارت اس ٹورنامنٹ کا مشترکہ میزبان ہے اور بنگلا دیش کے میچز پہلے ہی کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول کیے چکے ہیں۔

بنگلا دیش کو گروپ مرحلے کے اپنے تمام چار میچز بھارت میں کھیلنے ہیں، جن میں سات فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف افتتاحی میچ اور 14 فروری کو کولکتہ میں انگلینڈ کے خلاف مقابلہ بھی شامل ہے۔

بنگلا دیش عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے اور اس کے ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے کے امکانات بھی موجود ہیں، اس لیے اس کی عدم شرکت یا میچز کی منتقلی ٹورنامنٹ کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان اس تنازع کی جڑیں ایک حالیہ واقعے تک جاتی ہیں، جب بنگلا دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) سے اچانک ریلیز کر دیا گیا۔

مستفیض الرحمان آئی پی ایل کی نیلامی میں منتخب ہونے والے واحد بنگلا دیشی کھلاڑی تھے اور انہیں دس لاکھ ڈالر کی ایک خطیر رقم پر مشتمل کانٹریکٹ ملا تھا۔

لیکن بعد میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے کچھ انتہا پسندوں کے دباؤ میں آکر مستفیض الرحمان کو کلکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکالنے کی ہدایت کی۔

اسی فیصلے کے بعد بنگلا دیش میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور حکومت نے اس سیزن کی آئی پی ایل نشریات بھی ملک میں نہ دکھانے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) سے بھارتی پریزینٹر کو ہٹا کر پاکستانی پریزنٹر کو شامل کرلیا گیا۔

یہ معاملہ صرف مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے نکالے جانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے حالات و واقعات کی ایک سیریز ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی تناؤ کی وجہ بنی۔

اس میں معزول بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی بھارت میں موجودگی، بھارت کا ان کی حوالگی سے انکار، بنگلا دیش میں ہونے والے احتجاجی واقعات اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کے بعض واقعات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دسمبر میں ایک ہندو نوجوان کی بنگلہ دیشی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت بھی بھارت میں غصے کا باعث بنی، جس کا اثر مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل میں شمولیت پر دیکھا گیا۔

یہ صورتحال ماضی میں پاکستان کے ساتھ پیش آنے والے حالات سے مشابہ دکھائی دیتی ہے، جہاں 2009 کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں پر آئی پی ایل کے دروازے بند کر دیے گئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ کرکٹ تقریباً ختم ہو گئی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے اپنے میچز سری لنکا میں کھیلے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی سی سی ماضی میں ایسے معاملات میں نیوٹرل وینیو کا راستہ اختیار کر چکی ہے۔

بنگلا دیش کے لیے بھی ایسا ہی حل ممکن ہے، تاہم چونکہ شیڈول پہلے ہی طے ہو چکا ہے، اس لیے تبدیلیاں کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اگر کوئی متبادل حل نہ نکالا گیا تو آئی سی سی کو بنگلہ دیش کو ہٹا کر کسی اور ٹیم کو شامل کرنے جیسے مشکل فیصلے بھی کرنے پڑ سکتے ہیں۔

فی الحال آئی سی سی کی جانب سے کوئی حتمی مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن وقت کم ہونے کے باعث عالمی کرکٹ ادارے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ جلد ایسا فیصلہ کرے جو کھیل کے تقاضوں، سیکیورٹی خدشات اور علاقائی حساسیت کے درمیان توازن قائم کر سکے۔

india

ICC

BCCI

Bangladesh

ICC T20 World Cup

bangladesh cricket board

T20 world cup 2026

bangladesh cricket team