رحیم یار خان: ایک کروڑ سر کی قیمت والے ڈاکو نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے
رحیم یار خان پولیس کے کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے ڈاکو میرا لٹھانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ترجمان پولیس کے مطابق پولیس کا گھیرا تنگ ہونے پر ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق بدھ کو رحیم یار خان پولیس نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔
آپریشن کے دوران ڈاکوؤں خطرناک ڈاکو میرا لٹھانی نے اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں، اشتہاری مجرم میرا لٹھانی کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ڈاکوؤں فدا عرف راٹھور لٹھانی اور زلفی لٹھانی نے بھی خود کو پولیس کے سامنے سرنڈر کیا، رحیم یار خان پولیس کا گھیرا تنگ ہونے پر ڈاکو میرا لٹھانی، فدا عرف راٹھور لٹھانی اور زلفی لٹھانی نے سرنڈر کیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی پی او رحیم یار خان عرفان علی سموں کی قیادت میں پولیس کی کچے کے علاقے میں کرمنلز کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ ٹارگٹڈ کارروائیاں جاری ہیں، گرفتار ڈاکو قتل، پولیس پر حملوں، اغوا برائے تاوان سمیت سنگین جرائم میں ملوث اور ریکارڈ یافتہ ہیں۔
آئی جی پنجاب عثمان انور نے بدنام زمانہ ڈاکو کے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے پر ڈی پی او رحیم یار خان اور ان کی ٹیم کو شاباش دی ہے۔
ڈی پی او رحیم یار خان کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے راستے کھلے ہیں اور انہیں بہتر زندگی گزارنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ پولیس کا عزم ہے کہ کچہ کے علاقے کو جرائم سے پاک کیا جائے گا۔
سندھ حکومت کا کچے میں بڑے آپریشن کا اعلان
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کچے میں بڑے آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کریں گے، کچے میں ایک بڑا آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں، ہتیھار ڈالنے والوں کو موقع دیا جائے گا۔
ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ سندھ میں اب کہیں بھی حفاظتی کانوائے نہیں چل رہے، سندھ پولیس نے پنجاب کے ساتھ مل کر زبردست آپریشن کیا، اس آپریشن میں بھی پنجاب پولیس کی ضرورت پڑے گی، جس کے لیے آئی جی سندھ کو آئی جی پنجاب سے رابطے کا کہا ہے، مجھے پوری امید ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کو نیست و نابود کریں گے۔
وزیرداخلہ سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپریشن میں فوج کی ضرورت فی الحال نہیں، جو ڈاکو خود کو چیمپئن سمجھتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔












